بساط وقت پہ صدیوں کے فاصلے ہم لوگ

بساط وقت پہ صدیوں کے فاصلے ہم لوگ
کنار شام و سحر میں کہاں ڈھلے ہم لوگ
نہ کارواں نہ مسافر مگر جرس نہ تھمی
نہ روشنی نہ حرارت مگر جلے ہم لوگ
مقام جن کا مؤرخ کے حافظے میں نہیں
شکست و فتح کے مابین مرحلے ہم لوگ
نمود جسم کی شوریدہ خواہشیں دنیا
فشار روح کے نادیدہ ولولے ہم لوگ
نہ جانے کب کوئی کروٹ ہمیں جگا ڈالے
زمیں کے بطن میں خوابیدہ زلزلے ہم لوگ
فساد کوہ کنی حیلہ ہائے پرویزی
ہزار رنگ کے کانٹوں میں آبلے ہم لوگ
امیر شہر کی موٹی سمجھ میں کیا آتے
ضمیر دہر کے نازک معاملے ہم لوگ
ہجوم سنگ اذیت میں سر جھکائے ہوئے
رواں ہیں لے کے مشیت کے قافلے ہم لوگ
زباں بریدہ و بے دست و پا سہی لیکن
ضمیر کون و مکاں ہیں برے بھلے ہم لوگ
خورشید رضوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے