برسرِ اقتدار سارے لوگ

برسرِ اقتدار سارے لوگ
یعنی کم ظرف اور کھارے لوگ
تیرے ہوتے ہوئے خدا , ہم پر
کیوں مسلط ہوئے , اتارے لوگ
کیسے سہہ جاتے ہیں, خدا جانے
بےسبب عشق میں , خسارے لوگ
کچھ تو نزدیکیوں سے ڈھیر ہوئے
اور کچھ دوریوں نے مارے لوگ
اِس کنارے پہ ڈوبتا ہوا میں
منتظر کب سے اُس کنارے لوگ
ایک جنت کی جستجو میں یہاں
کس اذیت سے ہیں گزارے لوگ
کب تلک یونہی مجھ کو رونا ہے
بول ! جب پوچھیں تیرے بارے لوگ
جنگ خود ساختہ انا سے ہے
اور ہم لوگ خود سے ہارے لوگ
ایسا کیا آئنے میں دیکھ آئے
اے خدا خیر سب پکارے لوگ
دن بدن بڑھتا تیرگی کا خوف
ہیں کہاں چاند اور ستارے لوگ
سانپ کی طرح ڈس رہے ارشاد
میرے چوگرد روپ دھارے لوگ
ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے