برخوردار

برخوردار
کھڑے تھے ایک برخوردار کل نزدیک ریگل کے
میں سمجھا یہ کوئی سر سید و اقبال ہیں کل کے
کہا میں نے تمہارا نام، بولے سرفراز اختر
کہا کالج میں پڑھتے ہو، تو فرمانے لگے یس سر
کہا میں نے کہ آئندہ بھی پڑھنے کا ارادہ ہے
فرمایا کہ جو کچھ پڑھ لیا وہ بھی زیادہ ہے
نہ میں پیچھے کو بڑھتا ہوں نہ میں آگے کو بڑھتا ہوں
فقط دس سال سے صرف ایک ہی درجہ میں پڑھتا ہوں
میری صورت ہے نورانی، میری فطرت ہے رومانی
میں پروانہ صبیحہؔ کا، صبیحہ میری پروانی
دلاور فگار

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے