بقاء کا المیہ

مری بقا کا یہ المیہ ہے
مرے سپاہی کچھ اس طرح سے
مری حفاظت پہ ڈٹ گئے ہیں
کہ دشمنی کے سراب سارے
یہ خوف و دہشت کے استعارے
نفاق و نفرت کے سانپ بن کر
بہت دنوں سے
مری سماعت کو ڈس رہے ہیں
مری بقا کا یہ المیہ ہے
کبھی سنبھل کر کھڑا ہوا جب
میں اپنے پاؤں پہ چند لمحے
مرے ارادوں سے خوف کھا کر
مرے محافظ نے جھٹ سے میرے
نحیف پاؤں جکڑ لئے ہیں
مری بقا کا یہ المیہ ہے
مرے محافظ
وہ بیش قیمت لہو کے قطرے
مری رگوں سے نچوڑتے ہیں
کہ جن میں میری تواں کے عنصر
شفا کے مظہر
بصارتوں کے سبھی اشارے تڑپ رہے ہیں
مری بقا کا یہ المیہ ہے
کہ بے بسی اب مری بقا ہے
مرا محافظ مرے خدا میں بدل چکا ہے مری زباں
میرے دست و بازو بھی کٹ گئے ہیں
میں دیکھتا ہوں مرے سپاہی
مری حفاظت پہ ڈٹ گئے ہیں
سعید خان 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے