بند ہتھیلی میں ہیں سب

بند ہتھیلی میں ہیں سب
جنگل ویرانے اور شب
دریا اتر گیا تو کیا
نیا ڈوب گئی ہے اب
پلکیں نم تھیں اور کوئی
میرے سنگ نہ رویا تب
لوگ مجھے پاگل کہتے
سچ کے موتی چنتی جب
جیون مجھ سے روٹھ گیا
بیناؔ دستک دی تو کب
بینا گوئندی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے