بند آنکھوں میں کوئی خواب بھی ہو سکتا ہے

بند آنکھوں میں کوئی خواب بھی ہو سکتا ہے
وہ سمندر ہے تو پا یاب بھی ہو سکتا ہے

میری آنکھوں کے سمندر میں اتر کر دیکھو
اک جزیرہ تو تہ ِ آب بھی ہو سکتا ہے

آج پھر دل میں تری یاد نے کروٹ لی ہے
یہ محبت کا نیا باب بھی ہو سکتا ہے

میری آنکھوں میں اداسی کا ہے بنجر صحرا
میرے اشکوں سے یہ سیراب بھی ہو سکتا ہے

عین ممکن ہے وہ تصویر کے جیسا نکلے
عکس ِ مہتاب ہے مہتاب بھی ہو سکتا ہے

آنکھ بے نور بھی ہو سکتی ہے بن دیکھے تجھے
دل ترے ہجر میں بے تاب بھی ہو سکتا ہے

بغض رکھتے ہیں نبی زادی کے گھر سے جو عدید
اس کی پیشانی پہ محراب بھی ہو سکتا ہے

سید عدید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے