بنام مولوی منشی حبیب اللہ خاں المتخلص بہ ذکاؔ

بنام مولوی منشی حبیب اللہ خاں المتخلص بہ ذکاؔ

صبح جمعہ دہم شوال ۱۲۸۳۔ ۱۵ فروری ۱۸۶۷ ء۔ بھائی میں نہیں جانتا کہ تم کو مجھ سے اتنی ارادت اور مجھ کو تم سے اتنی محبت کیوں ہے۔ ظاہراً معاملہ عالمِ ارواح ہے اسباب ِ ظاہری کو اس میں دخل نہیں تمہارے خط کا جواب مع اوراق مسودہ روانہ ہو چکا ہے وقت پر پہنچے گا۔ سترا بہترا۔ اردو میں ترجمہ پیر خرف ہے میری تہتر برس کی عمر ہے بس میں اخراف ہوا۔ حافظہ گویا کبھی تھا ہی نہیں۔ سامعہ باطل بہت دن سے تھا رفتہ رفتہ وہ بھی حافظہ کی مانند معدوم ہو گیا اب مہینہ بھر سے یہ حال ہے کہ جو دوست آتے ہیں رسمی پرسشِ مزاج سے بڑھ کر جو بات ہوتی ہے وہ کاغذ پر لکھ دیتے ہیں غذا مفقود ہے صبح کو قند اور شیرہ بادام مقشر دوپہر کو گوشت کا پانی۔ سرِ شام تلی (تلے )ہوئے چار کباب۔ سوتے وقت پانچ روپے بھر شراب۔ اور اسی قدر گلاب۔ خرف ہوں ، پُوچ ہوں ، عاصی ہوں ، فاسق ہوں ، روسیاہ ہوں۔ یہ شعر میر تقی کا میرے حسبِ حال ہے ؎

مشہور ہیں عالم میں مگر ہوں بھی کہیں ہم

القصہ نہ درپے ہو ہمارے کہ نہیں ہم

آج اس وقت کچہ (کچھ) افافت تھی۔ ایک اور خط ضروری لکھتا تھا۔ بکس کھولا تو پہلے تمہارا خط نظر پڑا۔ مکرر پڑھنے سے معلوم ہوا کہ بعض مطالب کے جواب لکھے نہیں گئے۔ ناچار اب کتابت جداگانہ میں لکھتا ہوں تاکہ خلعت کا حال اور میرے حالات تم کو معلوم ہو جائیں کہ میں قوم کا ترک سلجوقی ہوں۔ دادا میرا ماور اءالنہر سے شاہ عالم کے وقت میں ہندوستان میں آیا۔ سلطنت ضعیف ہو گئی تھی۔ صرف پچاس گھوڑے نقارہ نشان سے شاہ عالم کا نوکر ہوا۔ ایک پرگنہ سیر حاصل ذات کی تنخواہ اور رسالے کی تنخواہ میں پایا۔ بعد انتقال اس کے جو طوائف الملوک کا ہنگامہ گرم تھا وہ علاقہ نہ رہا۔ باپ میرا عبداللہ بیگ خان بہادر لکھنؤ جا کر نواب آصف الدولہ کا نوکر رہا۔ بعد چند روز حیدرآباد جا کر نواب نظام علی خاں کا نوکر ہوا تین سو سوار کی جمعیت سے ملازم رہا۔ کئی برس وہاں رہا۔ وہ نوکری ایک خانہ جنگی کے بکھیڑے میں جاتی رہی۔ والد نے گھبرا کر الور کا قصد کیا راؤ راجہ بختاور سنگہ (سنگھ) کا نوکر ہوا۔ وہاں کسی لڑائی میں مارا گیا۔ نصراللہ بیگ خاں میراچچا حقیقی، مرہٹوں کی طرف سے اکبر آباد کا صوبہ دار تھا۔ اس نے مجھے پالا۔ ۱۸۰۶ ء میں جرنیل لیک صاحب کا عمل ہوا۔ صوبہ داری کمشنری ہو گئی۔ اور صاحب کمشنر ایک انگریز مقرر ہوا۔ میرے چچا کو جرنیل لیک صاحب نے سواروں کی بھرتی کا حکم دیا۔ چار سو سوار کا برگڈیر (برگیڈئیر) ہوا۔ ایک ہزار روپیہ ذات کا اور لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سال کی جاگیر حینِ حیات علاوہ سال بھر مزربانی کے تھی کہ بمرگِ ناگاہ مر گیا، رسالہ بر طرف ہو گیا۔ ملک کی عوض نقدی مقرر ہو گئی وہ اب تک پاتا ہوں۔ پانچ برس کا تھا جو باپ مر گیا۔ آٹھ برس کا تھا جو چچا مر گیا۔ ۱۸۳۰ء میں کلکتے گیا۔ نواب گورنر جنرل سے ملنے کی درخواست کی دفتر دیکھا گیا۔ میری ریاست کا حال معلوم کیا گیا۔ ملازمت ہوئی سات پارچے اور جیغہ سرپیچ، بالائے مروارید۔ یہ تین رقم کا خلعت ملا۔ زان بعد جب دلّی میں دربار ہوا مجکو (مجھ کو) بھی خلعت ملتا رہا بعد غدر بجُرم مصاحبت بہادر شاہ دربار خلعت دونوں بند ہو گئے۔ میری بریت کی درخواست گزری۔ تحقیقات ہوتی رہی۔ تین برس بعد پِنڈ چھُٹا۔ اب خلعت معمولی ملا غرضکہ یہ ریاست کا ہے عوضِ خدمت نہیں انعامی نہیں۔ معوج الذہن نہیں ہوں۔ غلط فہم ہوں ، بدگماں نہیں ہوں۔ جو جس کو سمجھ لیا اس میں فرق نہیں آتا۔ دوست سے راز نہیں چھپاتا۔ کسی صاحب نے حیدرآباد سے گمنام خط ڈاک میں بھیجا بند بری طرح کیا تھا۔ کھولتے میں سطر کٹ گئی۔ بارے مطلب ہاتھ سے نہیں جاتا۔ بھیجنے کی غرض یہ تھی کہ مجکو (مجھ کو) تم سے رنج و ملال ہو۔ قدرت خدا کی میری محبت اور بڑھ گئی۔ اور میں نے جانا کہ تم مجھے دل سے چاہتے ہو وہ خط بجنسہٖ تمہارے پاس اس خط میں ملفوف کر کے بھیجتا ہوں زنہار دستخطکو پہچان کر کاتب سے جھگڑا نہ کرنا مدعا اس خط کے بھیجنے سے یہ ہے کہ تمہاری ترقی اور افزونی مشاہرہ اس خط سے مجھے معلوم ہوئی تھی۔

ایضاً

بندہ پرور تمہارے دونوں خط پہنچے۔ غالب گسُستہ دم، کوتہ قلم نہ لکھے تو اور بات ہے دونوں خط خط آپ کے اور ایک پارسل محمد نجیب خاں کا بہ تقدیم و تاخیر دو سہ روز موصول ہوئے آپ کا پارسل بعد مشاہدہ آپ کو بھیجا جائے گا۔ خانصاحب کے پارسل میں ایک کتاب ارمغان اور اوراق اصلاح بھیجے جائیں گے۔ آہا ہا ہا محرق قاطع کا تمہارے پاس پہنچنا ؎ کامے کہ خواستم زخدا شد میسرم۔ میں اس خرافات کا جواب کیا لکھتا۔ مگر ہاں سخن فہم دوستوں کو غصہ آ گیا ایک صاحب نے فارسی عبارت میں اس کے عیوب ظاہر کئے دو طالبعلمان نے اردو زبان میں دو رسالے جدا جدا لکھے۔ دانا ہو اور منصف ہو محرق کو دیکھ کر جانو گے کہ مؤلف اس کا احمق ہے اور جب وہ احمق دافع ہذیان و سوالات عبدالکریم اور لطائف غیبی کو پڑھ کر متنبہ نہ ہوا۔ اور محرق کو دھو نہ ڈالا، تو معلوم ہوا کہ بیحیا (بے حیا) بھی ہے۔ دافع ہذیان، سوالات، لطائفِ غیبی۔ تینوں نسخے ایک پارسل میں اس خط کے ساتہ (ساتھ) روانہ ہوتے ہیں یقین ہے کہ بتقدیم و تاخیر یک دو روز نظرِ انور سے گزریں۔ فی الحال اس پارسل کی رسید بفور ورود لکھیئے گا۔ جب آپ کا بھیجا ہوا نسخہ مسترد پہنچے تو اس کی رسید رقم کی جائے گی۔ چار نسخے پارسل میں ہیں دو آپ لیجئے۔ اور دو محمد نجیب خاں صاحب کو دیجئے۔ دو شنبہ۔ ۲۸ نومبر ۱۸۶۴ء۔ غالب۔

(یہاں بھی تاریخ میں کتابت کی غلطی تھی۔ تاریخ ۱۸۸۴ ء لکھی تھی۔ چھوٹا غالب )

ایضاً

میرے مشفق میرے شفیق مجھ سے ہیچ و پوچ کے ماننے والے مجھ سے برے کو اچھا جاننے والے۔ میرے محب۔ میرے محبوب تم کو میری خبر بھی ہے۔ آگے ناتواں تھا اب نیم جاں ہوں آگے بَھرا(بہرا) تھا اب اندھا ہوا چاہتا ہوں۔ رامپور کے سفر کا رہ آورد ہے۔ رعشہ و ضعفِ بصر۔ جہاں چار سطریں لکھیں انگلیاں ٹیڑھی ہو گئیں حرف سوجھنے سے رہ گئے۔ اکہتر برس جیا بہت جیا۔ اب زندگی برسوں کی نہیں مہینوں اور دنوں کی ہے۔ پہلا خط تمہارا پہنچا۔ اس سے تمہارا مریض ہونا معلوم ہوا۔ متواتر دوسرا خط مع غزل آیا۔ غزل کو دیکھا سب شعر اچھے اور لطیف۔ حافظہ کا یہ حال ہے کہ غزل کی زمین یاد نہیں اتنا یاد ہے کہ ایک شعر میں کوئی لفظ بدلا گیا تھا۔ غرض کہ دو غزل بعد مشاہدہ تم کو بھیجی گئی اور لکھا گیا کہ نوید حصول صحت جلد بھیجو۔ کل ایک رجسٹری دار آیا گویا ستارہ دنبالہ دار آیا۔ حیران کہ ماجرا کیا ہے بارے کھولا اور دیکھا خط نوید رفعِ مرض و حصول صحت سے خالی اور شکوہ ہائے بیجا (بے جا) سے لبریز۔ صاحب میرے نام کا خط جہاں سے روانہ ہو وہیں رہ جائے تو رہ جائے ورنہ دلّی کے ڈاکخانہ میں پہنچ کر کیا مجال ہے جو مجھ تک نہ پہنچے۔ وہاں کے ڈاک کے کار پردازوں کو اختیار ہے مکتوب الیہ کو دیں یا نہ دیں۔ آپ مرزا صابر کا تذکرہ مانگتے ہیں اس کا یہ حال ہے کہ غدر سے پہلے چھپا اور غدر میں تاراج ہو گیا اب ایک مجلد اس کا کہیں نظر نہیں آتا۔ بس اب مجھے اتنا لکھنا باقی ہے کہ اس خط کی رسید اور اپنی خیر و عافیت جلد لکھ بھیجو۔ جواب کا طالب غالب۔ صبح جمعہ ۲۵ ذی الحجہ ۱۲۸۲ھ۔ ۱۲ مئی ۱۸۶۷ ء

ایضاً

مولانا ایک تفقد نامہ پہلے بھیجا تھا۔ اس کے جواب میں یہاں سے خط جواب طلب لکھا گیا تھا پھر ایک اور مہربانی نامہ آیا اس میں مَیں نے اپنے خط کا جواب نہ پایا ناچار اس خط کے جواب کی نگارش اپنے خط جواب طلب کے پاسخ آنے پر موقوف اور ہمت آزادانہ نہ فطرت کیا دانہ اس تحریر کے آنے پر مصروف رکھی گئی بارے وہ کل نظر افروز اور طبیعت اس کے مشاہدہ سے طرب اندوز ہوئی اب درنگ ورزی کی تقصیر معاف کیجئے اور اپنے دونوں نگارشوں کا جواب لیجئے۔ صاحب تاریخ انطباع کلیات خوب لکھی ہے۔ مگر ہزار حیف کہ بعد از اتمام انطباع پہنچی۔ اور کتاب کی رونق افزا نہ ہوئی۔ بندہ پرور تم چراغ دودمان مہر وفا اور منجملہ اخوان الصفا ہو۔ مجھ سے تمہیں محبت روحانی ہے گویا یہ جملہ تمہاری زبانی ہے۔ دوست کی بھلائی کے طالب ہو۔ اس شیوہ میں شریک غالب ہو ایک خواہش میری قبول ہو تاکہ مجھ کو راحت حصول ہو۔ سبادی کا ذکر نہیں کرتا ہوں واقعہ حال دل نشین کرتا ہوں جناب مولوی مؤید الدین خان صاحب کے بزرگوں میں اور فقیر کے بزرگوں میں باہم وہ خلّت و صفوت مرعی تھی کہ وہ مقتضی اس کی ہوئی کہ ہم میں اور ان میں برادرانہ ارتباط و اختلاط باہم ہے اور ہمیشہ یوں ہی بلکہ روز افزوں رہے گا۔ خط میں خط ملفوف کرنا جانب حکام ممنوع ہے۔ تو میں ان کے نام کا خط تمہارے خط میں ملفوف کر کے بھیجتا۔ ناچار اب آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ آپ مولوی صاحب سے ملیں اور ان کو یہ خط اپنے نام کا دکھائیں اور میری طرف سے بعد سلام میرے کلیات کی پارسل کا ان کے پاس اور ان کے ذریعہ عنایت سے اس مجلد کا حضرت فلک رفعت نواب مختار الملک بہادر کی نظر سے گزرنا اور جو کچھ اس کے گزرنے کے بعد واقع ہو دریافت کر کے مجھ کو مطلع فرمائیں۔ جمعہ ۱۰ ربیع الثانی ۱۲۸۰ھ مطابق ۲۵ ستمبر ۱۸۶۳ء غالبؔ۔

ایضاً

منشی صاحب الطاف نشان سعادت و اقبال تواماں منشی حبیب اللہ خاں کو غالب سوختہ جگر کی دعا پہنچے۔ تمہارا خط پہنچا پڑھ کر دل خوش ہوا۔ تم میری بات پوچھتے ہو مگر میں کیا لکھوں۔ ہاتہ (ہاتھ )میں رعشہ، انگلیاں (٭کتاب میں انگلسان لکھا ہے جو کہ کتابت کی غلطی ہے :۔ چھوٹا غالب)کہنے میں نہیں۔ ایک آنکھ کی بینائی زائل، جب کوئی دوست آ جاتا ہے تو اس سے خطوط کا جواب لکھوا دیتا ہوں۔ مشہور ہے یہ بات کہ جو کوئی کسی اپنے عزیز کی فاتحہ دلاتا ہے مولے کی روح کو اس کی بو پہنچی ہے۔ ایسے ہی میں سونگ(سونگھ) لیتا ہوں غذا کو۔ پہلے مقدار غذا کی تولوں پر منحصر تھی اب ماشوں پر ہے۔ زندگی کی توقع آگے مہینوں پر تھی اب دنوں پر ہے بھائی اس میں کچھ مبالغہ نہیں ہے۔ بالکل میرا یہی حال ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اپنی مرگ کا طالب غالب دوم شوال ۱۲۸۲ ہجری۔

ایضاً

جانِ غالب۔ تم نے بہت دن سے مجھ کو یاد نہیں کیا۔ ایک خط میرا ضروری جواب طلب گیا ہوا ہے اور آمدو رفت ڈاک کی مدت گزر گئی۔ اس کا جواب تو سو کام چھوڑ کر لکھنا تھا۔ مؤید برہان میرے پاس بھی آ گئی ہے اور میں اس کی خرافات کا حال بقیدِ شمار صفحہ و سطر لکھ رہا ہوں وہ تمہارے پاس بھیجوں گا شرطِ موّدت بشرط آنکہ جاتی نہ رہی ہو اور باقی ہو۔ یہ ہے کہ میں ہوں یا نہ ہوں تم اس کا جواب میرے بھیجے ہوئے اقوال جہاں جہاں مناسب جانو درج کر دو۔ میں اب قریب مرگ ہوں۔ غذا بالکل مفقود اور امراض مستولی۔ بہتر برس کی عمر اناللہ و انا الیہ راجعون۔ میاں محمد میرن کو دعا۔ جواب کا طالب غالب ۱۴ مارچ ۱۸۶۷ء۔

ایضاً

بندہ پرور آج تمہارا عنایت نامہ آیا اور آج ہی میں نے اس کا جواب ڈاک میں بھجوایا۔ اور اس خط کے ساتہ (ساتھ) پارسل کلیات کا بھی ارسال کیا۔ دسویں بارہویں دن خط اور مہینا بیس دن میں پارسل پہنچے گا۔ خط کا جواب ضروری الارسال نہیں لیکن پارسل کی رسید ضرور لکھیے گا۔ آپ کے خط کی عبارت تو میں سمجھا لیکن مدعا مجھ پر نہ کھلا۔ میں نے پارسل کب آپ کے پاس بھیجا اور کب آپ کو لکھا کہ آپ پارسل مؤید الدین خان کو دے دیجئے گا۔ پارسل کا لفافہ مولوی صاحب کے نام کا اور آپ کو اس کے ارسال کی اطلاع اور آپ سے یہ خواہش کہ مولوی مؤید الدین خاں صاحب سے ملیے اور میرا خط جو آپ کے نام کا ہے انہیں دکھائیے اور ان سے پارسل کا حال دریافت فرمائیے آپ ولایتی بھی نہیں جو میں یہ تصور کروں کہ اردو عبارت سے استنباط مطلب اچھی نہ کر سکے بہرحال اب مدعا سمجھ لیجئے۔ اور مولوی صاحب سے ملنے کا ارادہ فرمائیے اور پارسل کا حال معلوم کر کے لکھیے ٭داد کا طالب غالب ۵ جمادی الاول و نوزدہم اکتوبر۔ روز ورود نامہ نامی۔

(٭کتاب میں لفظ لکھتے درج ہے جس کا محل نہیں۔ چھوٹا غالب)

ایضاً

بندہ پرور کل آپ کا تفقد نامہ پہنچا آج میں پاسخ طراز ہوا۔ جس کاغذ پر میں یہ نقوش کھینچ رہا ہوں آپ کے خط کا دوسرا ورق ہے پہچان لیجئے اور معلوم کیجئے کہ آپ کا مجموعہ کلام معجز نظام اور اس کے بعد پیہم دو خط پہنچے۔ میں صحیفہ شریفہ کی رسید لکھ چکا ہوں۔ بلکہ اسی خط میں محمد نجیب خاں کو سلام اور ارمغان کا شکر اور اوراق اشعار اصلاح طلب کی رسید میں نے لکھ دی ہے۔ پارسل کے سر نامہ سے میرا نام مٹا نہیں پارسل تلف ہوا نہیں۔ آٹھ دس روز ہوئے ہوں گے کہ وہ مجلد اسی پارسل میں کہ اس کو روگردان کر لیا ہے بعد محصول آپ کا نام لکھ کر روانہ کر دیا ہے یقین ہے کہ بعد آپ کے خط کی روانگی کے آپ کے پاس پہنچ گیا ہو گا۔ ہاں صاحب خط دیروزہ کے ساتھ مولوی نجف علی صاحب کے نام کا مع اس حکم کے کہ میں اس کو مولوی صاحب پاس پہنچاؤں میں نے پایا۔ حال یہ ہے کہ مولوی صاحب سے میری ملاقات نہیں صرف اتحاد معنوی کے اقتضا سے انہوں نے دافع ہذیان لکھ کر فنِ سخن میں مجھ کو مدد دی ہے۔ منشی گوبند سنگھ دہلوی ایک ان کے شاگرد اور میرے آشنا ہیں۔ ان کو وہ خط بجنسہٖ بھیج دیا۔ یقین ہے کہ وہ مولوی نجف علی صاحب کو بھجوا دیں گے۔ انہیں کے اظہار سے دریافت ہوا ہے کہ مولوی صاحب مرشد آباد بنگالہ میں ہیں نواب ناظم نے نوکر رکھ لیا ہے ہر شخص نے بقدرِ حال ایک ایک قدر دان پایا۔ غالب ِ سوختہ اختر کو ہنر کی داد بھی نہ ملی ؎

کسم بخود نہ پذیرفت و دہر بازم برد

چو نامہ کہ بود نا نوشتہ عنوانش

یہ شعر میرا ہے ولی عہد خسرو دہلی میرزا فتح الملک بہادر مغفور کے قصیدہ کا۔ اور دیکھو ایک رباعی میری ؎

دستم بہ کلید مخزنے می بالیست

ور بود تہی بدامنے می بالیست

باہیچگہم بکس نیفتادے کار

یا خود بزمانہ چوں منے می بالیست

انا للہ و انا الیہ راجعون

ایضاً

دوستِ روحانی و برادر ایمانی مولوی حبیب اللہ خاں میر منشی کو فقیر غالب کا سلام۔ تم نے یوسف علی خاں کو کہاں سے ڈھونڈ نکالا اور ان کا تخلص اور ان کا خطاب کس سے معلوم کیا بغیر نشان محلہ کے ان کو خط کیونکر بھیجا۔ اور وہ خط ان کو کیونکر پہنچا ؎حیرت اندر حیرت ست اے یارِ من۔

پہلے یہ تو کہو کہ درفشِ کاویانی اور وہ قطعہ جس کی پہلی بیت یہ ہے تم کو پہنچا یا نہیں اگر پہنچا تو مجھ کو رسید کیوں نہیں لکھی ؎

مولوی احمد علی تخلص نسخہ

در خصوصِ گفتگوئے پارس انشا کردہ است

اگر یہ پارسل پہنچ گیا ہے تو رسید لکھو اور دیباچہ ثانی جدید کی داد دو۔ اور اگر نہیں پہنچا تو مجھ کو اطلاع ہوتا کہ ایک نسخہ اور بھیجوں۔ زیستن دشوار۔ اس مہینے یعنی رجب کی آٹھویں تاریخ سے تہترواں برس شروع ہوا۔ غذا صبح کو سات بادام کا شیرہ قند کے شربت کے ساتھ۔ دوپہر کو سیربھر گوشت کا گاڑھا پانی۔ قریب شام کبھی کبھی تین تلے ہوئے کباب۔ چھ گھڑی رات گئے پانچ روپیہ بھر شراب خانہ ساز اور اسی قدر عرق شیر۔ اعصاب کے ضعف کا یہ حال کہ اُٹھ نہیں سکتا۔ اور اگر دونوں ہاتھ ٹیک کر چار پایہ بن کر اٹھتا ہوں تو پنڈلیاں لرزتی ہیں۔ مع ہذا دن بھر میں دس بارہ بار اور اسی قدر رات بھر میں پیشاب کی حاجت ہوتی ہے حاجتی پلنگ کے پاس لگی رہتی ہے اٹھا اور پیشاب کیا اور پڑ رہا۔ اسباب حیات میں سے یہ بات ہے کہ سب کو بد خواب نہیں ہوتا بعد اراقہ بول بے توقف نیند آ جاتی ہے ۱۶۲کی آمد۔ ۳۰۰ کا خرچ ہر مہینے میں ۱۴۰ کا گھاٹا۔ کہو زندگی دشوار ہے یا نہیں۔ مردن ناگوار بدیہی ہے۔ مرنا کیونکر گوارا ہو گا۔ جواب خط کا طالب غالب۔ سہ شنبہ از روئے جنتری ۲۶ اور از روئے رویت ۲۵ رجب ۱۲۸۳ ہجری اور ۴ دسمبر ۱۸۶۶ء۔

بھائی یہ خط از راہِ احتیاط بیرنگ بھیجتا ہوں۔

ایضاً

جاناں بلکہ جان مولوی منشی حبیب اللہ خاں کو غالب خستہ دل کا سلام اور نور ِ دیدہ و سرورِ سینہ منشی محمد میراں کو دعا اور مجھ کو فرزندِ ارجمند کے ظہور کی نوید۔ جو نگارش صاحبزادہ کی طرف سے تھی رسم الخط بعینہٖ تمہاری تھی اب تم بتاؤ کہ رقعہ اسی کی طرف سے تم نے لکھا ہے یا خود اس نے تحریر کیا ہے لڑکا تمہارا تمہارے ساتھ حیدرآباد نہیں آیا۔ ظاہراً اب تم نے وطن سے بلایا ہے مفصل لکھو کہ نخلِ مراد کا ثمر یہی ہے یا اس کے کوئی بھائی بہن اور بھی ہے یہ اکیلا آیا ہے یا قبائل کو بھی اس کے ساتھ تم نے بلایا ہے۔ ہاں صاحب محمد میراں یہ اسم مقتضی اس کا ہے کہ آپ قوم کے سید ہوں منشا ء افراط پُرسش وُفورِ محبت سے نہ فضولی۔ یوسف علی خاں شریف عالی خاندان ہیں بادشاہِ دہلی کی سرکار سے تیس روپیہ مہینہ پاتے تھے جہاں سلطنت گئی وہاں وہ تنخواہ بھی گئی۔ شاعر ہیں۔ ریختہ کہتے ہیں۔ ہوس پیشہ ہیں مضطر ہیں ہر مدعا کے حصول کو آسان سمجھتے ہیں علم اسی قدر ہے کہ لکھ پڑھ لیتے ہیں۔ ان کا باپ میرا دوست تھا۔ میں ان کو بجائے فرزند سمجھتا ہوں بقدر اپنی دستگاہ کے کچھ مہینا مقرر کر دیا ہے مگر بسبب کثرتِ عیال وہ ان کو مکتفی نہیں تم ان کی درخواست کے جواب سے قطع نظر نہ کرو گے تو کیا کرو گے۔ صاحب میں بعینِ عنایت الہی کثیر الاحباب ہوں ایک دوست نے کلکتہ سے مجھے اطلاع دی کہ مولوی احمد علی مدرس کلکتہ نے ایک رسالہ لکھا ہے نام اس کا مؤید برہان ہے اس رسالہ میں دفع کیے ہیں تیرے وہ اعتراض جو تو نے دکنی پر کئے ہیں اور تیری تحریر پر کچھ اعتراضات وارد کئے ہیں اور اہل مدرسہ اور شعرائے کلکتہ نے تقریظیں اور تاریخیں بڑی دھوم کی لکھی ہیں۔ بس بھائی میں نے اتنے علم پر ایک قطعہ لکھ کر چھپوایا اور کئی ورق اس دوست کو اور دو چار جلدیں درفش کاویانی علاوہ اوراق مذکور بھیج دئیے۔ اسی زمانے میں تین چار ورق خوب یاد ہے کہ درفش کی جلد میں رکھ کر تم کو بھیجے ہیں یا تو مجھے غلط یاد ہے یا تم نے درفش کو کھول کر دیکھا نہیں وہ اوراق مع درفش زینت طاقِ نسیاں ہیں دو ورق اس لفافہ میں اپنے مکرر بھیجتا ہوں تم بھی دیکھو اور صاحبزادہ بھی دیکھے اور یہ جانے کہ فی الحال نظم فارسی یہی ہے اور بس۔ ہاں صاحب اودھ اخبار میں ایک قصیدہ مولوی غلام امام کا دیکھا مکاں تنگ ست جہاں تنگ ست مدح مختار الملک میں متضمن استدعائے مسکن وسیع۔ پھر مہینہ بھر بعد اسی اودہ (اودھ) اخبار میں یہ خبر دیکھی کہ نواب نے مسکن تو نہ بدلا مگر تین مہینا بڑھا دیا۔ اسی اخبار میں پھر دیکھا گیا کہ ایک صاحب نے مولوی غلام امام کے کلام پر اعتراض کیا ہے اور ان کے شاگرد وضیع تخلص نے اس کا جواب لکھا ہے آپ سے اس روداد کی تفصیل اور جواب و اعتراض و معترض کے نام کا طالب ہوں۔ بسبیلِ استعجال۔ دو شنبہ ۱۶ شعبان ۱۲۸۳ ہجری۔

٭٭٭

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے