بنام شاہِ شہیداں

بنام شاہِ شہیداں، سلام کیا لکھوں

حقیر لفظ ہیں، مدح امام کیا لکھوں

غضب کہ نوکِ سناں پر ہے کربلا کا سفر

ہر ایک تیغِ ستم بے نیام، کیا لکھوں

دہک رہے ہیں ہر اک سمت دھوپ کے شعلے

مسافران وفا کا قیام، کیا لکھوں

عجیب وقت، تھی چشم فلک ہی خود حیراں

کھڑی تھی سر پر قیامت کی شام، کیا لکھوں

ہر ایک نام ہے لوحِ دوام پر محفوظ

کتابِ دل میں شہیدوں کے نام کیا لکھوں

خدا نے جن کو عطا کی ہے چادر تطہیر

میں ان کی شان میں نجمہ کلام کیا لکھوں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے