بنام دشمن

دوستوں کی خدمت میں اپنی ایک نظم "بنام دشمن ” پیش کرتا ہوں جس کا محرک عمرو بن کلثوم کا قدیم اور عالی شان قصیدہ ہے۔
عمرو بن کلثوم(وفات 584 ع) جرات مند عربی سردار اور مایہ ناز شاعر تھا۔ وہ عرب کے ان سات نامی گرامی شاعروں میں سے تھا جس کی ایک نظم معلقہ کی صورت میں کعبہ کی دیوار پر آویزاں تھی اور سبع معلقات کا حصہ تھی۔ انگریز سبع معلقات کو Seven Suspended Poems یا The Suspended Odes یا The Hanging Poems کہتا ہے۔ روایت ہے کہ قدیم دور میں عکاظ کے سالانہ میلے میں شاعری کا مقابلہ ہوا کرتا تھا۔ ہر سال کی بہترین نظم کو بڑے اہتمام سے نفیس ترین پارچے پر سونے کے پانی سے لکھوا کر ایک شاہکار کی صورت میں دیوار کعبہ پر آویزاں کیا جاتا تھا۔ امراء القیس کی طرح عمرو بن کلثوم بھی ان سات چنیدہ شاعروں میں شامل ہے جس کی ایک نظم سبع معلقات میں شامل ہوئی۔
عمرو بن کلثوم بنو تغلب کا سردار تھا۔ بنو تغلب اور بنو بکر کے درمیان چالیس سال جنگ (حرب البسوس) جاری رہی جو بالآخر الحیرا سلطنت کے بادشاہ عمرو بن ہند نے ختم کروائی۔ ایک دن محفل رامش و رنگ برپا ہوئی۔ مدہوشی میی بادشاہ نے اپنے مخصوص قدیم عربی اور قبائلی لہجے میں ڈینگ لگائی:
” ہے عرب میں کوئی سورما
جس کی ماں میری ماں کی خدمت سے انکار کرے۔۔۔۔؟”
سب نے بیک زبان ہو کر کہا:
” جی ہے اور اس کا نام عمرو بن کلثوم ہے۔”
بادشاہ چیں بجبیں ہوا۔ اپنے تجسس کی آسودگی کے لئے بادشاہ نے عمرو بن کلثوم کو اپنی ماں کے ساتھ اپنے ہاں بلایا۔ کلثوم نے دعوت قبول کی۔ زنان خانے میں بادشاہ کی ماں ( جو عظیم شاعر امرا ء القیس کی خالہ تھی) عمرو بن کلثوم کی ماں سے رعونت اور گستاخی سے پیش آئی۔ عمرو بن کلثوم نے شور سنا تو تلوار نیام سے نکالی، بادشاہ کا سر قلم کیا، حفاظتی دستہ جہنم واصل کیا، ماں کو گھوڑے پر بٹھایا اور واپس اپنے قبیلے میں آ گیا۔
پھر اس نے اپنے قبیلے کا قصیدہ لکھا جو اس کے قبیلے کی عظمت اور شجاعت کا گویا رجز ہے۔ اس نے بتایا کہ صبح ہم سفید جھنڈے لے کر نکلتے ہیں جو شام تک دشمن کے خون سے سرخ ہو جاتے ہیں۔ اس نے دشمن کی یاد دہانی کے لئے مکرر ارشاد فرمایا کہ اے دشمن ۔۔۔!! تم ہمارے نو مولود بچوں سے دہشت زدہ ہو کر ان کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہو۔
میں نے یہ نظم مولانا شبلی نعمانی کی کتاب میں پڑھی تھی۔ انہوں نے یہ واقعہ تفصیل سے درج کیا اور عمرو بن کلثوم کے قصیدے کا عربی متن اور اردو ترجمہ لکھا۔ ہیئت میں اس قصیدے کی ساخت ہماری اردو غزل جیسی ہے۔ میری یہ نظم اسی قصیدے سے ماخوذ ہے کہ اس کی بہت سی شبیہیں اسی قصیدے سے کشید کی گئی ہیں۔ یہ نظم مجھے بہت عزیز ہے۔ ایک تو اس لئے کہ یہ میری پہلی دو نظموں میں سے ایک ہے جو میں نے انیس سال کی عمر میں 1978 میں لکھی۔ اس وقت میں پنجاب میڈیکل کالج لائلپور میں سیکنڈ ائیر کا طالبعلم تھا۔ اور پھر اس لئے کہ اس نظم کا سلسلہ دنیائے شعر و ادب اور دبستان عرب کے عظیم الشان شاعر سے ملتا ہے۔
ملاحظہ فرمائیے۔
بنام دشمن
(قدیم عربی شاعر عمرو بن کلثوم کے انداز میں لکھی گئی)

تجھے معلوم ہے
کس دھج سے ھم گھر سے نکلتے ہیں ، مرے دشمن۔۔۔۔۔؟
ہمارے راہواروں کو تری بد قسمتی مہمیز کرتی ہے۔
سموں کی تھاپ صحرا کا تناؤ توڑ دیتی ہے۔
دھمک پاتال کے سینے میں
نیزے کی طر ح پیوست ہو جاتی ہے،
تو دھرتی چٹختی ہے۔
ہمارے نار نیزوں کی ہر اک جلتی آنی پر
قہر کا سورج سلگتا ہے۔
نیامیں آب میں تر ہیں
کہ تلواروں کی دھار اپنی حدوں کو چھوڑ کر اپنے غلافوں میں سرایت کر گئ ہے۔
ادھر جب شام کو
سور ج کے پیلے تھال کا سونا پگھلتا ہے
ادھر ھم
سر خ جھنڈے لے کے گھر کو لوٹ آتے ہیں
ہمارے جانشیں کہتے ھیں:
"بابا!
صبح جب تم جنگ کرنے کے لیے گھر سے چلے تھے
اس گھڑی جھنڈے رو پہلے تھے
تو پھر یہ سر خ کیسے ھو گئے۔۔۔۔؟”
تو ھم انھیں کہتے ہیں:
"بیٹا!
اس گھڑی صحرا کی ساری ریت بھی سیماب تھی
اور اب ذرا دیکھو!
تمھیں محسوس ھو گا
بحر احمر کے کنارے پر کھڑے ھو تم
اور اس کے درمیاں دشمن کے کشتوں کے جزیرے ھیں۔۔۔۔۔!!!”
اور ہاں بچوں سے یاد آیا،
ہمارے شیر خواروں سے ڈرو دشمن۔۔۔!
کہ جب وہ دودھ چھوڑیں گے،
تو تم دہشت زدہ راتوں میں سونا چھوڑ جاؤ گے
یہ بچے خاندانی ہیں
آب وجد کی روایت کا بڑا وجدان ر کھتے ہیں
آنا کو پوجتے ہیں
خون پر ایمان رکھتے ہیں۔
وحید احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے