بنا رہے کوئی دم نقش پا سے کون کہے

بنا رہے کوئی دم نقش پا سے کون کہے
ابھی نہ خاک اڑائے ہوا سے کون کہے
پئے نشاط نفس دو نفس بچا کے رکھے
یہ مدعا دل بے مدعا سے کون کہے
گئی تو بو ہی نہیں رنگ بھی گلوں سے گیا
پلٹ کے باغ میں آئے صبا سے کون کہے
وہ ملتفت ہیں مگر اب ہمیں دماغ نہیں
کہے ہوئے کو پھر اب ابتدا سے کون کہے
بہت سے روگ دعا مانگنے سے جاتے ہیں
یہ بات خوگر رسم دوا سے کون کہے
وہ دل کا درد وہ ناگفتنی سخن خورشیدؔ
خدا سے کہہ لیا خلق خدا سے کون کہے
خورشید رضوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے