بنا رہے ہیں سڑک کاٹ کر درختوں کو

بنا رہے ہیں سڑک کاٹ کر درختوں کو
پرانے لوگ چلے ہیں نئے زمانوں کو
کبھی جو ہو کوئی دستک ضرور در کھولو
خدا فقیر بنا ڈھونڈتا ہے اپنوں کو
مرے بچھونے سے خوشبو تمہاری آتی ہے
تمہارے لمس کی عادت ہے گھر کے پردوں کو
ہمیں یہ باغ جگانا ہے اور اس خاطر
تمہارے ہاتھ لگانے ہیں آج پھولوں کو
کبھی سنبھالتے پھرتے تھے وہ مرے گہنے
اور اب تو یاد بھی رکھتے کہاں ہیں باتوں کو
ہمارا عشق اٹھا بانٹ ہر علاقے میں
ہماری آگ چرا دان کر چراغوں کو
وہ اپنا آپ سمیٹے یہی مناسب ہے
پری چھپا نہیں سکتی بکھرتے بالوں کو
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے