بام و در ہیں ترے اشکوں سے فروزاں نیناں

بام و در ہیں ترے اشکوں سے فروزاں نیناں
گھر میں اچھا نہیں اس درجہ چراغاں نیناں
کوئی بادل تو برستا رہا مجھ پر لیکن
دل ابھی تک ہے اسی طرح بیاباں نیناں
میری ہر صبح ہوئی ایک مسلسل ماتم
میری ہر شام ہوئی شام غریباں نیناں
اب مسلسل ترے کوچے میں جھڑی رہنی ہے
یاد کے ابر ہوئے ہیں ترے مہماں نیناں
چاند رکھا ہے کہیں ،دھوپ کہیں رکھی ہے
رہ گیا یہ مرے گھر میں ترا ساماں نیناں
اپنے چہرے پہ کوئی وصل کا افسوں لکھ لے
حرف جیسے ہوں پرستان کی پریاں نیناں
اپنے چھالوں پہ لگا لے کوئی تازہ نشتر
اب تو اس درد کا کر لے کوئی درماں نیناں
کہ دے پائل کی چھنا چھن سے ذرا تھم جائے
کیونکہ جنگل میں کئی مور ہیں رقصاں،نیناں
چونکتی رہتی ہوں اکثر میں اکیلی گھر میں
کوئی تو ہے جو صدا دیتا ہے ، نیناں نیناں
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے