بلوچ مردوں کی لاشیں

بلوچ مردوں کی لاشیں
مقرب فرشتوں نے
خالق کے دربان کو عرضیاں پیش کی ہیں
کسی لوح پر بھی خُدائی شجر کا ثمر ایسا خوں ریز دیکھا نہیں ہے
کئی مسخ چہرے، جھلستی کہانی کے نقّارچی ہیں
کسی آنکھ پر
کوہِ مردار کی سخیاں نقش ہیں
جو غنیمِ وطن کے تصادم میں اندھی ہوئی تھیں
کُھلی پگڑیاں،
آتشی پربتوں کے سروں پہ سجی تھیں
جو ہنگول کے پیچ وخم سے گزرتے ہوئے پانیوں کی طرح سوختہ سوختہ
کیچ کی وسعتوں سے بھرے بازوؤں کو
زمینی بگولوں نے
رُوکھی درانتی سے کاٹا
کہ خانہ بدوشوں کے یہ خار چُبھتے بہت تھے
سو اِن کو تراشا
جواں چھاتیوں پہ سوالوں کی جتنی گھنی جھاڑیاں تھیں
مشینیں چلائیں
خمیدہ کمر پہ
زمینی خداؤں نے وہ بوجھ ڈالا
جبیں اُٹھ نہ پائی
یہ کوہِ سلیماں کی بُجھتی ہوئی شام
ماوں کے سینوں میں جلنے لگی ہے
کوئی مہ جبیں راہ تکتے ہوئے آس کی بھینٹ چڑھنے لگی ہے
خسارہ
خسارہ
چھلکتے ہوئے پانیوں میں تسلی نے کائی جمائی
سسکتی ہوئی زندگی نے مشقت اُٹھائی
عرفان شہود

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے