Bajuz Tumhary Kisi Sy

بجز تمہارے کسی سے کوئی سوال نہیں

کہ جیسے سارے زمانے سے بول چال نہیں

یہ سوچتا ہوں کہ تو کیوں نظر نہیں آتا

مری نگاہ نہیں یا ترا جمال نہیں

تجاہل اپنی جفاؤں پہ اور محشر میں

خدا کے سامنے کہتے ہو تم خیال نہیں

یہ کہہ کے جلوے سے بے ہوش ہو گئے موسیٰ

نگاہ تجھ سے ملاؤں مری مجال نہیں

میں ہر بہارِ گلستاں پہ غور کرتا ہوں

جلا نہ ہو مرا گھر ایسا کوئی سال نہیں

خطا معاف کہ سرکار منہ پہ کہتا ہوں

بغیر آئینہ کہہ لو مری مثال نہیں

میں چاندنی میں بلاتا ہوں تو وہ کہہ دیں گے

قمرؔ تمہیں مری رسوائی کا خیال نہیں

۔۔۔۔

شیخ آخر یہ صراحی ہے کوئی خم تو نہیں

اور بھی بیٹھے ہیں محفل میں تمہی تم تو نہیں

ناخدا ہوش میں آ ہوش ترے گم تو نہیں

یہ تو ساحل کے ہیں آثار تلاطم تو نہیں

ناز و انداز و ادا ہونٹوں پہ ہلکی سی ہنسی

تیری تصویر میں سب کچھ ہے تکلم تو نہیں

دیکھ انجام محبت کا برا ہوتا ہے

مجھ سے دنیا یہی کہتی ہے بس اک تم تو نہیں

مسکراتے ہیں سلیقے سے چمن میں غنچے

تم سے سیکھا ہوا اندازِ تبسم تو نہیں

اب یہ منصور کو دی جاتی ہے نا حق سولی

حق کی پوچھو تو وہ اندازِ تکلم تو نہیں

چاندنی رات کا کیا لطف قمرؔ کو آئے

لاکھ تاروں کی ہو بہتات مگر تم تو نہیں

قمر جلال آبادی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے