بجا ہنگامہ آرائی ہماری

بجا ہنگامہ آرائی ہماری
نِری وحشت ہے تنہائی ہماری
نہیں آئے ابھی جامے سے باہر
گریباں تک ہے رسوائی ہماری
الگ ویرانئ صحرا اور اُس پر
سِوا ہے آبلہ پائی ہماری
فقط حلیہ ہی مجنوں سا نہیں ہے
طبیعت بھی ہے سودائی ہماری
لہو نے خاکِ مقتل کی مدد سے
نئی تصویر بنوائی ہماری
کِسی نے شہر کی بنیاد رکھّی
کِسی نے جھونپڑی ڈھائی ہماری
ہمیں اک جنگ ہے درپیش خود سے
تعاقب میں ہے پسپائی ہماری
دعا کرتے ہیں لیکن جانتے ہیں
نہیں ہونے کی شنوائی ہماری
ہمیں بھی اُس طرف جانا ہے لیکن
ابھی باری نہیں آئی ہماری
خوشی سے بند ہیں اپنے گھروں میں
تماشہ ہے یہ خود رائی ہماری
لپٹ جاتی ہے جب بھی دیکھتی ہے
شبِ غربت ہے ماں جائی ہماری
جہاں ناقوس پھونکے جارہے ہیں
وہیں گونجے گی شہنائی* ہماری
ہمیشہ دکھ ہمارا بانٹتی ہے
بہت اچھی ہے ہمسائی**ہماری
جو سوتے ہیں تو سونے دو وگرنہ
قیامت ہوگی انگڑائی ہماری
ہزاروں بار دیکھا اُس کاچہرہ
نظر ہر بار دھندلائی ہماری
نہیں لکھتے گلی کوچوں کا لہجہ
عبث ہے خامہ فرسائی ہماری
عجب اک داغ تھا سینے پہ جس نے
بہت پیشانی چمکائی ہماری
عارف امام
٭ ڈاکٹر بسم اللہ خان (مشہور شہنائی نواز)
**ارون دھتی رائے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے