بہار زخم لب آتشیں ہوئی مجھ سے

بہار زخم لب آتشیں ہوئی مجھ سے
کہانی اور اثر آفریں ہوئی مجھ سے
میں اک ستارہ اچھالا تو نور پھیل گیا
شب فراق یوں ہی دل نشیں ہوئی مجھ سے
گلاب تھا کہ مہکنے لگا مجھے چھو کر
کلائی تھی کہ بہت مرمریں ہوئی مجھ سے
بغل سے سانپ نکالے تو ہو گیا بدنام
خراب اچھی طرح آستیں ہوئی مجھ سے
کہاں سے آئی ہے خوشبو مجھے بھی حیرت ہے
یہ رات کیسے گل یاسمیں ہوئی مجھ سے
میں اپنے پھول کھلائے ہیں اس کی جھاڑی پر
قبائے یار بہت ریشمیں ہوئی مجھ سے
بس ایک بوسہ دیا تھا کسی کے ماتھے پر
تمام شہر کی روشن جبیں ہوئی مجھ سے
غزل سنی تو بہت دل سے خوش ہوا عاطفؔ
مگر غزل کی ستائش نہیں ہوئی مجھ سے
عاطف کمال رانا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے