بغیر انجام کی منزل

بغیر انجام کی منزل
بہت گہرا کنواں ہے
اور۔۔۔زنگ آلود ،میرا ڈول
بہت محتاط ہو کر تہہ میں اس کو میں نے ڈالا تھا
مگر میں کیا بتاؤں۔۔۔
اب کی بار اس نے بھرا ہے کیا
بہت سے گرم گرم آنسو۔۔۔
بہت ہی خشک خشک آہیں
نہایت اَن چھوئی خواہش۔۔۔
بہشتی منظروں کے خواب
کسی کی مسکراہٹ،کھوکھلی سی،پھیکی پھیکی سی
کسی کے مطلبی حیلے ،سلگتے زخم کے ٹیلے
چبھن کی کرچیاں، اُجڑی ہوئی کچھ بستیاں بے آب
وہ نیلے اور زہریلے ۔۔۔
دہکتے درد کی ٹیسیں
کئی سوکھے ہوئے تالاب
وہاں شاید ہے اک صحرا،جہاں اگتا نہیں جنگل
وہیں ہم پھینک آتے ہیں اٹھا کر اپنی ہر مشکل
نہیں فرصت کہ یہ سوچیں۔۔۔
کبھی تھک ہار کر ہی ، پیاس کی شدت مٹانے کو
کوئی ٹوٹے ہوئے پتوں کی مانند،اڑ کے آ جائے
یہ بنجر پن کہیں اس کی،لگن کو توڑ نہ جائے
وہ شاید چاند کے سائے کے پیچھے ،پھر نہ جائے گا
کسی آہٹ میں پائے گا
ستاروں سی کوئی جھلمل
بغیر انجام کی منزل۔۔۔!!!
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے