بے نیازِ مکاں

بے نیازِ مکاں

اندھیرا سرکتا تھا

مٹّی کے ملبوس والے گھروں

لڑکھڑاہٹ میں اِک دُوسرے سے اُلجھتی ہوئی

ٹیڑھی گلیوں میں بہتا ہوا

ہاتھ کھڈّی کے موٹے کواڑوں سے چھنتے ہوئے

کچّے کمروں کی مٹّی گراتی

چھتوں سے ٹپکتی ہوئی باس میں گُھل گیا

خشک پتوّں کی کڑیوں سے رستا اَندھیرا

ٹھہرتا نہیں تھا کہ سورج پھسلتا تھا

غربت، عقیدت سے لبریز بستی

اندھیرے میں گرتی تھی

لیکن دمکتے ہوئے

رنگ روغن کی پوشاک پہنے

چمکدار معبد کے اونچے

مُنارے پہ کِرنوں کا میلہ تھا

کچّے گھروندوں کی دیواروں نے

اپنے حصّے کی کِرنیں ملا کر

خدا کی رہائش کی خاطر

اساری گئی پختگی پر اُلٹ دی تھیں

پکّے مُنارے سے کچّی سماعت میں آواز اُتری

خدا لامکاں ہے

شہزاد نیّرؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے