بے خوابی

بے خوابی

نیند آنکھوں میں کسی ڈوبتے تارے کی طرح
کسمساتی ہے سمٹ جاتی ہے مر جاتی ہے
صندلیں ہاتھوں سے دستک کبھی دیتی ہے مگر
ذہن کی آہنی دیوار سے ڈر جاتی ہے
گاہ خوش رنگ خیالوں کا لبادہ اوڑھے
کسی نشتر کی طرح دل میں اتر جاتی ہے
یا کبھی کوئی ستم پیشہ محبت بنکر
پاس آتی ہے مگر آ کے گذر جاتی ہے

ذہن شوریدہ خیالوں کا الم بستہ ہجوم
اپنے کاندھوں پہ لیے بھاگ رہا ہے ایسے
جیسے ٹھہرے گا تو پتھر میں بدل جائے گا
جیسے کٹ جائیگا شمشیرِ برہنہ کے تلے
جیسے قدموں سے زمیں دور سرک جائے گی
جیسے اِس موڑ کے اُس پار بہت آگے اُدھر
کوئی دوشیزہ کھڑی ہو اُسے ملنے کے لیے

سرد ہوتی ہوئی آنکھوں کی فصیلوں سے پَرے
ایک ہنگامۂ محشر ہے کہ بڑھتا جائے
ریت اڑتی ہوئی سنسان گلی کوچوں میں
رات کا اونگھتا سنّاٹا بکھرتا جائے
زنگ آلود ستاروں کا دھواں ساتھ لیے
چاند ہر لمحہ کسی آگ میں جلتا جائے
نیم کی شاخ پہ مرتا ہوا تنہا جگنو
درد کا آخری پیغام سناتا جائے

آہ اس درجہ اذیّت نہیں جھیلی جاتی
اتنی وحشت ہے کہ دل آج ہی مرنا چاہے
روح لٹکی ہے صلیبِ درِ تنہائی پر
سرد آنکھوں میں بس اک بار مچلنا چاہے
اور یہ جسم کہ بے خواب و جنوں پروردہ
شبِ بے رحم کی سفّاکی سے بچنا چاہے
اور پھر بسترِ کمخواب میں آزادی سے
ایک دو عمر کسی غار میں سونا چاہے

عزیز نبیلؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے