بڑھتے بڑھتے سوز ِدل آہ و فغاں ہونے لگا

بڑھتے بڑھتے سوز ِدل آہ و فغاں ہونے لگا
ضبط میرا ٹوٹ کر میری زباں ہونے لگا
وہ کتابِ دل کے نازک باب سے واقف نہ تھا
اس کا کار بے وفائی داستاں ہونے لگا
آرزو پہنچی فلک پہ اڑ کے میری خاک سے
سوزِ دل تابانیوں میں کہکشاں ہونے لگا
اسکی خاموشی سے سارا کھل گیا راز ِدروں
مدعا سارا نگاہوں سے بیاں ہونے لگا
روح کی وادی میں جیسے آگئے جگنو کئی
تیرگی میں ڈوبتا دل ضوفشاں ہونے لگا
دشت پر جو پیر رکھا دھر لیا تنہائی نے
تنگ مجھ پر یہ زمین و آسماں ہونے لگا
مجھ سے بڑھ کر کون چاہے گا بھلا اس کی بساط
سوچ کر کچھ خود غرض وہ مہرباں ہونے لگا
نیند کے درپن میں عشبہ آ گیا وہ روبرو
خواب ایسا تھا حقیقت کا گماں ہونے لگا
عشبہ تعبیر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے