بد گمانی کا ذرا پردہ ہٹا کر دیکھیئے

بد گمانی کا ذرا پردہ ہٹا کر دیکھیئے
چاہتوں کو آپ میری آزما کر دیکھیے
چھوڑیے بھی چھوٹی چھوٹی رنجشوں پر بے رُخی
مختصر سی زندگی ہے مُسکرا کر دیکھیئے
میرا غم بھی آپ پر کھُل جائے گا بس اک ذرا
اپنی پلکوں پر مرے آنسو سجا کر دیکھیئے
جگمگاتی ہے مرے چاروں طرف جو شامِ غم
زخمِ دل کی روشنی ہے، زخم کھا کر دیکھیئے
زعم کیوں ہے آپ کو اپنی وفاؤں پر حضور
بے نیازی کی یہ اپنی خُو مٹا کر دیکھیئے
کس قیامت کے سجے ہیں دکھ مری پلکوں پر آج
درد کی اس لَے کو دل سے تو ملا کر دیکھیئے
عشق کے تپتے ہوئے صحرا میں میری زندگی
آبلہ پا ہے اُسے اپنا بنا کر دیکھیئے
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے