بدن کی آگ کے دریا کو پار کرتے ہوئے

بدن کی آگ کے دریا کو پار کرتے ہوئے
میں جی اٹھا ہوں ترا انتظار کرتے ہوئے

سرِ نگاہ سرکتا ہے آئنوں کا ہجوم
پسِ چراغ حقیقت شکار کرتے ہوئے

اک اشتعال میں شب کی جنی ہوئی وحشت
سمٹ چکی ہے مجھے بیقرار کرتے ہوئے

وگرنہ عیب نہیں میری پختگی میں کوئی
میں ٹوٹتا ہوں ترا اعتبار کرتے ہوئے

مرا گھماؤ مری خامشی پہ حاوی ہے
میں گرد باد ہوا ہوں پکار کرتے ہوئے

ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے