بدلتے چہرے ۔۔۔ بدلتے حالات

بدلتے چہرے ۔۔۔ بدلتے حالات

مجھے وہ پرانا واقعہ یاد آ گیا جب ایک صبح فیمی کا فون آیا ۔۔۔
’’کچھ بینک کے کام ہیں اگر آپ آ جائیں تو مجھے سہولت ہو گی میرا خوف جاتا رہے گا ویسے بھی آج میرا دل چاہتا ہے کہ میں گاڑی اُس انداز میں چلاوں جو آپ کو پسند ہے آپ کو یقیناًیاد ہو گا جب ایک دفعہ میں نے شیخ زاہد ہسپتال کے پاس نہایت تیز رفتاری سے چلتی گاڑی اچانک موڑ دی تھی اور آگے پیچھے آتے ڈرائیوروں کی چیخیں نکل گئی ہوں گی ایک خوف سا طاری ہو گیا ہو گا اُس وقت آپ نے ہنستے ہوئے کہا تھا‘‘ ۔۔۔
’’تم پہلے دوبئی میں ٹرک تو نہیں چلاتی رہی؟؟؟؟‘‘ ۔۔۔
’’ہاں ہاں‘‘ ؟ ۔۔۔
’’تمہاری ڈرائیونگ سے ایسا لگتا ہے کہ تم واقعی یا تو دوبئی میں بڑے ٹرالر ریگستانوں میں چلاتی رہی ہو یا پھر اپنے لاہور شہر میں پٹھانوں کا رکشہ تمہاری ہاتھ چڑھا رہا ہو گا‘‘ ؟؟؟ ۔۔۔
’’اصل میں فیمی ۔۔۔ آپ کے انداز سے دو باتیں دکھائی دیتی ہیں ایک تو آپ نے بہت کم عمری میں گاڑی چلانا سیکھ لی ہو گی اور اُسی زمانے میں بد تمیزی کرنا بھی ۔۔۔ اسی لیے شاید بلا کا اعتماد ہے آپ کی ڈرائیونگ میں، آپ کے انداز میں اس کے علاوہ یہ بات حیران کن ہے کہ آپ کو گاڑی چلاتے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے آپ نے کبھی بریک پہ پاؤں نہیں رکھا اور کبھی بھی گاڑی چلاتے ہوئے کسی قسم کا خوف محسوس نہیں کیا ہو گا‘‘ ۔۔۔
وہ اپنے مخصوص انداز میں قہقہہ لگاتی ہوئی پھر سے کہیں کھو سی گئی اور حسب معمول سلام دعا کیے بغیر اچانک اُس نے فون بند کر دیا ۔۔۔
میں چونکہ ٹھوکر سے مال روڈ نہر کنارے جا رہا تھا میں نے گاڑی کا رُخ اُس کے گھر کی طرف موڑ دیا تھوڑی ہی دیر میں ہم دونوں ایک پھٹیچر جیپ میں بیٹھے ہوئے تھے اس دوران میں نے اپنی گاڑی گلی میں پارک کر دی اور حسب معمول اِدھر اُدھر تالے لگا دئیے ۔۔۔ میری اس بات پر وہ خوب ہنسی وہی پرانے دور کے قہقہے لگاتی جو عام طور پر نازک اندام لڑکیوں کو نہیں جچتے لیکن اُس کا یہ انداز بڑا ہی دلکش تھا ۔۔۔
’’بدر یہ اتنے تالے نہ لگایا کرو اتنی رکاؤٹیں اچھی نہیں ہوتیں جس نے اس چار پہیوں والی کو منا لیا یہ اُسی کے ساتھ ہو جائے گی ۔۔۔ یہ چیزیں اُسی کی ہوتی ہیں جو انہیں لے جانے میں کامیاب ہو جائے‘‘ ۔۔۔
فیمی نے یہ بات کہتے ہوئے اپنے سراپا پر رعونت کے ساتھ نظر ڈالی، مغرور، خوبرو حسینہ کی طرح ۔۔۔ مجھے کبھی بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ اُس نے میک اپ کیا ہو یا کسی بیوٹی پارلر کا رُخ کیا ہو یا ۔۔۔ وہ اپنے آپ پر توجہ دیتی ہو لیکن اچانک دیکھا ایک دم سے میں اُس کے ہاں پہنچا یا ۔۔۔ سر راہ کبھی اچانک آمنا سامنا ہوا تو بھی وہ حسین و جمیل عورت کی طرح ترو تازہ نظر آئی ۔۔۔ دکھ اور غم میں بھی اُس کی خوبصورتی مثالی ہوتی ہے اُس کے پاس کوئی بھی چیز ’’لوکل‘‘ نہ تھی ۔۔۔ سوائے ایک دو مردوں کے۔۔۔ ایک دن میں نے یہ بات مذاق مذاق میں کہہ ہی ڈالی ۔۔۔ تو مخصوص قہقہہ لگایا پھر کسی گہری سوچ میں گم ہو گئے اور پھر نہایت جرأت مندانہ انداز میں بولے ۔۔۔
’’نہ تو تم مشرقی ہو ۔۔۔ نہ ہی تم مغربی ہو، تم تو ان دونوں میں سے کوئی اعلیٰ سی ’’چیز‘‘ ہو جیسے سنبھال کے رکھنا ۔۔۔ جیسے تھامے رکھنا آسان کام نہیں‘‘ ۔۔۔
’’ویسے بھی ایسی چیزیں کم ہی کسی کے قابو میں رہتی ہیں لیکن ایک عورت کی حیثیت سے یہ تو بہر حال میرا فرض ہے نہ کہ میں اپنی اس ’’چیز‘‘ کو سنبھال کے رکھوں ۔۔۔ اِدھر اُدھر نہ ہونے دوں‘‘ ۔۔۔ اُس نے معنی خیز نظروں سے مغرورانہ انداز میں دیکھتے ہوئے نہایت محبت سے کہا ۔۔۔
’’یہ کیا‘‘ ۔۔۔ اچانک میرا پاؤں جیپ کے اندر پڑے ایک بڑے سے کپڑے کے ساتھ لگا اور اُس میں سے بہت سے نوٹ اِدھر اُدھر بکھر گئے ۔۔۔ اُس نے پھر قہقہہ لگایا یہ وہ پیسے تھے جو میں نے انعامی بانڈ کے ڈیلر سے کل شام AG آفس چوک سے لیے تھے ۔۔۔ اس ملک میں بہت سے ایسے ’’لوٹ مار‘‘ کرنے والے موجود ہیں جو شکل سے ’’سائیں لوک‘‘ لگتے ہیں لیکن ’’ممکن ہے کل کلاں کو وہ کسی جرمن یاں کینیڈا کی کمپنی کو پچاس ارب کا ’’جہاز‘‘ اپنی مرضی کی Specification کے مطابق بنوانے کا ’’آرڈر‘‘ جاری کر ڈالیں اور دنیا کے بڑے ’’ڈکیت‘‘ دیکھتے ہی رہ جائیں‘‘ ۔۔۔
دیکھو نہ تم ہی تو کہا کرتے تھے کہ تمہارے ہاتھ میں دولت کی لائن بڑی مضبوط ہے اور چھتیس سال کی عمر سے تمہارا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا جس میں دولت کی ریل پیل ہو گی تمہارے پاس اس قدر دولت ہو گی جو سنبھالی نہ جا سکے گی۔ اس دوران اُس کے چہرے پر مکمل سنجیدگی طاری ہو گئی اور اُس نے کہا ’’بدر جب چند سال پہلے میں اپنے گھر سے نکلی تو میں نے اپنے باپ کو ایک زناٹے دار تھپڑ کے جواب میں کہا تھا کہ میں اب اُس وقت قصور واپس آؤں گی جب میرے پاس لاکھوں نہیں کروڑوں روپے ہوں گے اور میرے والد نے آہستہ سے کہا تھا ’’اور بے شمار لعنتیں بھی اُس وقت تک تم سمیٹ چکی ہو گی‘‘ اس دوران اُس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اُس نے گاڑی ایک طرف لگائی اُتر کر میری طرف آئی میں سمجھ گیا میں نے خود ہی اپنی سیٹ سے چھلانگ لگائی اور تیزی سے دوسری طرف جا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔۔۔ کافی دیر تک ہم دونوں گاڑی میں خاموش بیٹھے رہے پھر میں نے خود ہی گاڑی سٹارٹ کی اور چل پڑا ۔۔۔ اس دوران اُس نے پھر خاموشی توڑی اور اپنے باپ کا کہا ہوا وہی اذیت ناک فقرہ دہرایا ۔۔۔
’’اور بے شمار لعنتیں بھی اُس وقت تک تم سمیٹ چکی ہو گی‘‘ ۔۔۔
گاڑی ذرا تیز چلائیں کہیں بینک بند نہ ہو جائے میری ہنسی نکل گئی ۔۔۔
’’محترمہ بہتر ہے آپ قصور سے ۔۔۔ لاہور واپس آ جائیں ۔۔۔ آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا کیونکہ پرانے فیصلوں پر شرمندہ یا پریشان نہیں ہوا کرتے ورنہ چلتی گاڑی کو بریکیں لگ جاتی ہیں یا پھر اُڑتا ہوا جہاز کسی بڑے طوفان میں گم ہو جاتا ہے اور آپ کے بقول ۔۔۔ ایک بار اُٹھایا قدم واپس نہیں مڑنا چاہیے ورنہ انسان کہیں کا نہیں رہتا‘‘ ۔۔۔ جدید دور کا تقاضہ ہے کہ انسان حالات کے مطابق چلنا شروع کر دے کیونکہ اب رسم و رواج بدل چکے ہیں یہاں تک کہ ’’فیس بک‘‘ پر ایسے بیٹے دکھائے جاتے ہیں جو سر عام ماں باپ کو ’’جوتے مارتے ہیں‘‘ اور پھر بھی ’’عزت دار‘‘ کہلاتے ہیں ۔۔۔
ویسے محترمہ اگر آپ پسند کریں تو مجھے بتائیں کہ کل جب شام کے وقت آپ AG آفس چوک میں یہ ایک کروڑ روپیہ اکیلے کیش کی صورت میں آپ لینے گئیں تو آپ کو اُس وقت کوئی خوف کیوں محسوس نہیں ہوا آپ پریشان کیو ں نہیں ہوئیں کیونکہ آج کے دور میں ایک کروڑ روپیہ بہت بڑی رقم ہے اور صرف چھتیس لاکھ کے لیے چند دن پہلے ڈاکوؤں نے شادمان چوک میں دو سکیورٹی گارڈ قتل کر ڈالے تھے اور سائیڈ پر چلتی ہوئی ایک لڑکی ڈاکوؤں کی گولیوں کا نشانہ بن گئی جو بعد میں ہسپتال جا کر دم توڑ گئی ۔۔۔
’’بدر ۔۔۔ یہ ایک کروڑ روپیہ میرے لیے کوئی اتنی بڑی رقم نہیں اسی پھٹیچر جیپ میں میں نے کروڑوں روپے اِدھر اُدھر شفٹ کیے اس کے علاوہ کروڑوں روپے کی دوسری ’’چیزیں‘‘ بھی لانے لے جانے کے لیے میں عام طور پر یہ پھٹیچر جیپ ہی استعمال کیا کرتی ہوں‘‘ ۔۔۔
ویسے سیاسی میدان میں کروڑوں ڈالر اسلام آباد سے دوبئی شفٹ کرنے والی ’’محبوبائیں‘‘ پاکستانی عدالتوں سے ’’باعزت‘‘ ضمانت کروا کے ضامن سمیت نجانے کس ملک میں چھپ کر ہنسی خوشی ’’باعزت‘‘ زندگی بسر کر رہی ہیں ۔۔۔
اور تم نے خود ہی مجھے اپنے علاقے کے اُس گاڑیوں کے ’’ڈینٹر‘‘ کے بارے میں بتایا تھا جس کے بارے میں ایک اخبار کے سنڈے میگزین میں اُس کا دو پورے صفحات کا فیچر چھپا تھا جس میں اُس ’’ڈینٹر‘‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہالینڈ سے ایک عورت پاکستان آئی تھی اور اُس نے ’’جھورے ڈینٹر‘‘ کو تلاش کر کے کسی کا حوالہ دیا اور اُس سے ایک گاڑی تیار کروائی جس میں کئی کلو ’’ہیروئن‘‘ پیک کی گئی تھی ۔۔۔ وہ عورت چار ہفتے لاہور کی گلیوں میں اُس گاڑی کو دوڑاتی رہی کہ یہ راز کہیں رستے میں فاش نہ ہو جائے اور پھر وہ بڑی بے باکی سے وہ گاڑی ’’ہیروئن‘‘ سمیت ہالینڈ لے جانے میں کامیاب ہو گئی تھی ۔۔۔
میری ہنسی نکل گئی ’’آجکل وہ ’’جھورا ڈینٹر‘‘ ہر اسلامی مہینے کی گیارہ تاریخ کو اپنے گھر میں ایک محفل برپا کرتا ہے جہاں آنے والوں کو ختم درود کے بعد مٹن قورمہ وافر مقدار میں کھلایا جاتا ہے‘‘ ۔۔۔
وہ زور زور سے ہنسنے لگی اور پھر قہقہے لگاتے ہوئے بولی ’’بدر ۔۔۔ سچ سچ بتاؤ تم ہر مہینے کی گیارہ تاریخ کو وہ مٹن قورمہ ’’وافر مقدار‘‘ میں کھانے جاتے ہو نہ‘‘؟۔۔۔
اس دوران جب ہم ایبٹ روڈ سے ’’منو ہاؤس‘‘ کی طرف مڑے تو دو لڑکوں نے موٹر سائیکل میرے ساتھ کی اور پیچھے بیٹھے لڑکے نے پستول دکھا کر مجھے غصے سے کہا ’’پرس نکال دو‘‘ میں نے حسب معمول کالے شیشوں والی عینک اُتار کر جب اُن دونوں کو نہایت غور سے دیکھا تو دونوں قہقہے لگاتے بغیر پرس چھینے واپس مڑ گئے۔۔۔
وہ بائیں سیٹ پر بیٹھی زور زور سے ہنسنے لگی ۔۔۔ کافی دیر بعد اُس کی ہنسی رُکی تو اُس نے پھر قہقہہ لگایا ۔۔۔
’’لگتا ہے یہ دونوں کسی دور میں تمہارے شاگرد رہے ہوں گے ۔۔۔ استاد کو دیکھ کر دونوں ہی پرس چھینے بغیر واپس مڑ گئے حالانکہ اُنھیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ اُن کے ’’استاد‘‘ کے پہلو میں بیٹھی خوبصورت لڑکی کے پاس پرس کے علاوہ ایک کروڑ کیش بھی ہے ۔۔۔
ہم دونوں زور زور سے قہقہے لگانے لگے ۔۔۔ گاڑیوں کا شور تھا ورنہ لوگ ہمارے قہقہے سن کر تالیاں بجاتے ۔۔۔ شور مچاتے ۔۔

حافظ مظفر محسن

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے