بڑا خوش نما یہ مقام ہے نئی زندگی کی تلاش کر

بڑا خوش نما یہ مقام ہے نئی زندگی کی تلاش کر
تو نہ اپنے ذہن کی بات کر نئی دوستی کی تلاش کر
ترے آسمان کا سر کبھی کسی اور زمین پہ جھک گیا
یہ ہوا تو ایسا ہوا ہی کیوں کبھی اس کمی کی تلاش کر
کبھی خواہشوں کے ہجوم میں جو پھسل گئے ہیں مرے قدم
جسے پی کے دہر سنبھل گیا اسی مے کشی کی تلاش کر
جو بہار کو بھی عزیز تھی وہی شام لطف و سرور کی
جسے سسکیوں کی نظر لگی اسی زندگی کی تلاش کر
جہاں آدمی کی بقا رہے جہاں فکر و فن کو جلا ملے
جہاں درد نو کا پتہ ملے وہاں آگہی کی تلاش کر
نہ اداس شام کے فلسفے نہ بہار صبح کی رونقیں
نہ اصل زیست کے زیر و بم نہ تو نغمگی کی تلاش کر
جو بھی گفتگو کا اصول ہے اسی بات کا تو خیال رکھ
نئی کائنات کی جستجو نئی روشنی کی تلاش کر
افروز عالم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے