بچپن میں مرے وقت رواں ایسا نہیں تھا

بچپن میں مرے وقت رواں ایسا نہیں تھا

اس وقت یہ بوڑھا تو جواں ایسا نہیں تھا

کچھ کچھ مری مرضی کی تھی پہلے یہی دنیا

لوگ ایسے نہیں تھے، یہ جہاں ایسا نہیں تھا

اس وقت بھی کچھ کوئلے جلتے تھے بدن میں

لیکن مری آنکھوں میں دھواں ایسا نہیں تھا

لگتا تھا کہ بھر جائے گا یہ زخم بالآخر

تب تک مرے سینے پہ نشاں ایسا نہیں تھا

تم نے مجھے دیکھا نہیں اس عشق سےپہلے

صحرا تو میں پہلے بھی تھا، ہاں ، ایسا نہیں تھا

اب سامنے ہے میرے ، مگر کیسے کہوں میں

تو جو مرے دل میں تھا میاں ، ایسا نہیں تھا

ہر نرخ پہ گاہک کے خریدار تھے تم لوگ

حالانکہ نہ بکنا تو زیاں ایسا نہیں تھا

اب اپنے پتاور میں کھڑا سوچ رہا ہوں

پہلے میں کبھی برگ فشاں ایسا نہیں تھا

اظہار کا ہر رنگ برت لینے سے پہلے

سچ یہ ہے کہ میں تشنہ بیاں ایسا نہیں تھا

اس برف سے اب تک بھی شرر اڑتے ہیں صاحب

سچ مچ ، مجھے اندازۂ جاں ایسا نہیں تھا

یہ لوگ مرا حال سمجھتے بھی ہیں ، پھر بھی

کہتے ہیں فلاں ابن فلاں ایسا نہیں تھا

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے