سریلی قمریاں حق سرہ گردان کرتی ہیں

سریلی قمریاں حق سرہ گردان کرتی ہیں

تو گھر بیدار ہوتا ہے

گھنے پیپل سے چھنتی روشنی کی دستکوں سے شرق رویہ کھڑکیوں کی آنکھ کھلتی ہے

بچھے بستر سمٹتے ہیں تو کمرے جاگ اُٹھتے ہیں

میں اک پیڑھی پہ بیٹھا ہوں

گندھے میدے کے اک پتلے ورق کی سوندھ پھیلی ہے

مری امی کسی بوتل کے ڈھکنے سے

شہابی گول ٹکڑے کاٹتی ہیں اور تکونیں بچتی جاتی ہیں

یہ منظر ، نیم خاموشی کا منظر ایک شرّاٹے میں ڈھلتا ہے

کڑاہی میں ابلتا آئنہ ان گول ٹکڑوں اور تکونوں کو سنہرے ، زرد رنگوں میں بدلتا ہے

اک ایسے خواب میں بیدار ہوں جس میں

مری امی ، مرے ابو ، مری بہنیں ، مرے بھائی

مرے اطراف میں ہیں اور میں ان سے بات کرتا ہوں

میں ان کو چھیڑتا ہوں ، تنگ کرتا ہوں.

( یہ سب باتیں تو ان سے آج بھی ہوتی ہیں لیکن

اُس گھڑی ، اُس وقت ، اُس دن مَیں

پگھلتے وقت کے اُس منجمد ٹکڑے میں

ان کو چھو بھی سکتا تھا)

ہمارے قہقہوں کی گونج آنگن میں بکھرتی ہے

مہکتی مسکراتی صبح کا ریشم پھسلتا ہے

اور اب اتنے دنوں کے بعد پھر اتوار کا دن ہے

سنہرے وقت کا اک منجمد ٹکڑا مرے اندر پگھلتا ہے

اور اب کی بار شرّاٹا مرے دل سے نکلتا ہے

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے