بابا

بابا
بچپن سے آپ نے بھروسہ دیا
بیٹی کا احساس سے فخر کا غرور دیا
میں کہتی بچپن اور بڑھے ہو کر بابا
بس کھانسی سے آپ جتادینا آپ کا ساتھ ھے
یاد ہیں میٹرک کا امتحان بخار سے تپ رہی تھی
میرا بخار دیکھ کر کہا کوئی نہیں پڑھائی ضروری
بہن غصہ ہوگئی آپ بگاڈ رھے ہیں اسے
پڑھنا نہیں پھر کیا اس کو ناول ہی پڑھتے رہنا
بابا مسکرا کر کہتے یہ میری شیرنی
بس بابا آپ کی شیرنی کبھی کبھار بہت کمزور
ہوجاتی ھے
آپ کا یقین ہی لکھنے کے سفر کو جاری رکھا
بیٹا بیٹی کا فرق نہیں کیا کبھی آپ نے
جب آپ کا رخصت آخر شروع ہوا
بیٹوں بہوں بیٹیوں دامادوں دامادوں
نواسے اور پوتیان کون سب سے یتیم ہوا
سب کا درد ایک سا پرکھنا مشکل تھا
بھائی میرے سب خیال رکھتے میرا
بس بابا جان آپ سا کوئی نہیں میرا یہاں
خدیجہ آغا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے