باتیں کریں 

باتیں کریں 

نیاز صدیقی برما ٹیک کی سوتی رسی سے بنی کُرسی ہی پر بیٹھ کر لکھا کرتا تھا۔ یہ وُہی کُرسی تھی جو اس ماں نے پہلی بار اپنے ہاتھوں سے کسی تھی، ماں کے گزرجانے کے بعد اس کی بیوی نے بہت چاہا کہ وہ کرسی کباڑیئے کوبیچ دی جائے ۔ مگر اس کو کرسی پر ٹیک لگا کر بیٹھ کے لکھنے کی عادت تھی ۔۔ کرسی کی بنائی ڈھیلی ہوجانے کے بعد اس کوتین مرتبہ بنوائی والے سے کسوایا گیا اور دو بار اس کی سوتی رسی بھی تبدیل کروائی مگر اس کی سال ہا سال سے مرمت کے باوجود کباڑیئے کی نذر نہ کرنے دی ۔یہ الگ بات ہے کہ اپنی کمر کے آرام کی خاطر نیاز صدیقی نے ملائم روئی کے بڑے بڑے دوکشن بنوالیے تھے ۔
نیاز صدیقی دیکھنے میں تو اب بھی جوان لگتا تھا لیکن جانے کیا وجہ تھی کہ وہ اپنے تین رازدار دوستوں سے ٹائم بڑھانے کی دوا پوچھ چکا تھا ۔ ایک دوست نے اسے ہومیو پیتھی کی دوائی اور ایک نے جڑی بوٹی بتائی تھی اور ایک نے مذاق میں چھیڑا کہ بھائی اب شادی کے بیس سال کے بعد ویاگرا کی کیا ضرورت پڑ گئی!!
کچھ سال پہلے تک اس کی اسٹڈی ٹیبل پر صرف کاغذاور قلم ہوتے تھے اور سامنے دیوار پر کتابوں سے ریک بھرا ہوتا تھا ۔ جن میں ، میر، درد ،مومن ، غالب ،ناصر کاظمی ، مصطفی زیدی ، حالی ، اقبال وغیرہ کے دیوان ، شہاب نامہ ، علی پور کا ایلی، اشفاق احمد کے زاویے کا سیٹ ، کرشن چندر ،پریم چند کے چھوٹے سائز کی جلد میں بہترین افسانے اور ناولز ، آگ کا دریا ، اداس نسلیں ، منٹو کے افسانے ، عصمت چغتائی کی ٹیرھی لکیر اور اردولغات جیسی مشہور کتب کے علاوہ باقی تمام کتابیں اسے تحفتآ ملی تھیں ۔۔جب سے وہ اپنے نئے لکھنے والے دوستوں کی تعریف میں مضامین لکھنے لگا تھا ، اس وقت سے وہ اپنے حلقےمیں ” نقاد ” مشہور ہوگیا تھا ۔ تعریفی مضامین کی لالچ میں لوگ اسے اپنی کتابیں بصد شوق بھیجا کرتے تھے ۔
اپنے چھوٹے شہر کےمخصوص ادبی حلقے میں اس کی بہت عزت تھی ۔۔ وہ اپنے دوستوں کی ادبی لابی کا جانا پہچانا اور مانا ہوا بڑا ادیب تھا ۔ ایک ادیب دوست کے”خالص ادبی رسالے” میں تواتر سے چھپتا تھا ۔ اس کی تحریرکے لیے رسالے کا مدیربار بار اسے یاد دہانی کرواتا ، وہ پیغامات پر بظاہر اچھنبے کا اظہار کرتا ، پیار اور محبت ، دعا و شفقت کے جوابی پیغامات دیتا پھر ہمیشہ کی طرح اپنی نئی نویلی تحریر اس کے حوالے کردیتا تھا ۔
کئی برسوں سے اس کی روٹین تھی کہ وہ رات سونے سے قبل لکھا کرتا تھا ۔ جب سے اس کی پرانی میز پر نیا لیپ ٹاپ آ گیا تھا تب سے فراغت کے یہ لمحات اسے رنگین لگنے لگے تھے ۔۔۔
اسے یہ دیکھ کے بہت حیرت ہوتی کہ اس جدید دور میں اس سے بھی پرانے لکھنے والے اور اس کے ہم عصر سوشل میڈیا پربہت زیادہ ایکٹیودکھائی دیتے ہیں ۔ اسے آئے دن، اردوشاعری یا اردو افسانے کے کسی نہ کسی گروپ میں ایڈ کر لیا جاتا تھا ۔ جہاں اس کے نت نئے ” فیس بک دوست “بنتے رہتے تھے ۔
سوشل میڈیا پر آجانے کے بعد اس کا ادبی حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے ۔ اس کی دلی تمنا تھی کہ وہ اردو کی ادبی دنیا میں مشہور ہوجائے اور سوشل میڈیا نے اس کا کام آسان کردیا تھا ، یہاں لوگ اس کے مضامین اور افسانے پڑھ کےاس کی عزت وتکریم میں زمین وآسمان کے قلابے ملانے لگے تھے ۔ وہ اور بھی جانفشانی سے افسانے اور مضامین لکھنے لگا تھا ۔
وہ دنیا کی مشہور کتابوں کے حوالے ،مشہور فلاسفر کے اقتباسات واقوال اور تنقید کی مشکل اصلاحات سے نئے لکھنے والوں کے افسانوں پر افسانے کی تکنیک کے بارے میں ایسی رائے دیتا کہ ادب کے باغیچے کی نوخیز قلم کار کلیاں اس سے متاثر ہو جاتی تھیں ۔ اکثر لڑکیاں اس کے ساتھ ان بکس میں بات چیت شروع کردیتی پھراس کے ساتھ دوستی کی لہر میں بہنے لگتیں ۔ وہ بھی ان کو افسانے اور تنقید کے وہ وہ زاویے سمجھاتا کہ وہ چاروں شانے چت ہوکےاس پر عاشق ہوجاتیں ۔ وہ اپنے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے جلد ہی گھل مل کے ،باتیں کر کے ان بند کلیوں کو کھول دیتا ۔ پھراپنی مطلوبہ خواہش پوری کر کے ، تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی ، کے مصداق ، آگے کسی اور بند کلی کی تلاش میں نکل جاتا ۔ اس کا یہ جذباتی و نفسیاتی سلسلہ ، دوستی کے پردےمیں دراز ہوتا جارہا تھا ۔
اب وہ رات کا بھی انتظار نہیں کرتا تھا بلکہ دفتر سے آتے ہی اپنےاسٹڈی روم میں گھس جاتا ۔ بچے بہت اداس ہوگئے تھے ۔ گھومنے پھرنے ، باپ کے ساتھ کھیل و تفریح سے بھی گئے ۔ پہلے وہ سب شام میں بیٹھ کر اپنی اپنی باتیں کرلیا کرتے تھے ۔ نیاز صدیقی اکثر ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرتا یا کوئی اور قصہ کہانی سنا دیا کرتا تھا ۔۔۔مگر باپ کے لیپ ٹاپ اور سوشل میڈیا کی مسروفیات نے ان بچوں کی ساری تفریحی سرگرمیاں ختم کر دی تھیں ۔
نیاز صدیقی اپنی سرمستی میں ہواوٗں میں اڑ رہا تھا ،اس کے لیے اجنبی شوخ خواتین سے بات کرنے کا نشہ نیا نیا تھا اور جب وہ حسینایئں بھی اس کا حوصلہ بڑھا دیتیں تو وہ بھی ایک قدم مزید آگے بڑھ جاتا ۔ نشہ دوبالا ہو جاتا ۔ بسا اوقات موقع کی مناسبت سے وہ مستعد ہوکے اپنی فطری خواہش کی تکمیل بھی کرلیتا تھا ۔ خواتین کی رنگین باتیں اور ان کی چھیڑ چھاڑاس کے برسوں سےتھکے ہوئے اعصاب کو تقویت دیتیں اور وہ اپنے اندر کڑیل جوانوں جیسا جوش و جذبہ بیدار ہوتے دیکھ کے بھرپور مزے لیتا اورمحبت کی اس انوکھی دنیا میں پائی جانی والی ہر کیفیت کو چسکیاں بھر کے پیتا ۔۔ بہت سالوں بعد بغیر دوا لیے بیوی کے پاس جانا بھی اچھا لگنے لگا تھا ۔
بہت سے خوشگوارتجربات کے بعد سوشل میڈیا پراسےایک آدھ تلخ تجربے بھی ہوئے ۔ جن میں سب سےزیادہ دکھی اس کوایک “خاتون بی بی” نامی شاعرہ نے کیا تھا ۔ وہ ایک ہی خاتون بیک وقت اس کے ساتھ ساتھ اس کے تین مزید دوستوں کے ساتھ بھی عشق و عاشقی کی پینگیں بڑھا رہی تھی اور ان کے بعض میسجز دوسرے کو کاپی کرکے بھی دکھاتی اورمزے لیتی تھی ۔۔ وہ سب دوست چونکہ ایک ہی حمام میں ننگے تھے اس لیے بات وہیں ان بکس میں فلش آوٗٹ ہوگئی ۔۔ اس کے بعد اس نے احتیاط سے گفتگو کرنے کو ترجیح دینا شروع کر دی تھی ۔۔
پھر جب صدف نامی ایک حسین خاتون اس کو میسج کرنے لگی تھی تو اس کی ساری احتیاط دھری کی کی دھری رہ گئی ۔صدف سے باتیں کرنے کےبعد اس کی زندگی میں جیسے نئی بہار آگئی تھی ۔ وہ اپنی ڈسپلے پکچر میں ملکوتی حسن کی ملکہ دکھائی دیتی تھی ۔ وہ اسے دیکھتے ہی اپنے بے قابو ہوتے دل سے اس کے گلابی گلابی لب ورخسار پر عاشق ہو گیا ۔۔
اس نے صدف کی باتوں سے اندازہ کیا تھا کہ وہ بہت ہی بے باک عورت ہے ، نیاز کو اس پر زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی اور نہ اپنے لفظوں کی زیادہ جادوگری دکھانی پڑی ، اسے محسوس ہوگیا کہ صدف اس مڈل ایج کرائسس سے گزر رہی ہے جس عمر میں بے تابیاں ایک بار پھر جوان ہو کے جوش مارتی ہیں ، پھر ایک دن صدف نے بے باکی کی تمام حدود پار کرلیں ۔وہ پکے ہوئے آم کی طرح اس کی جھولی میں آگری تھی ، اس کی جھولی بھی کیچ کرنے کی ماہر تھی اور وہ اپنے تجربات کی بنا پر اس پکے ہوئے آم کو اچھی طرح چوس چوس کے رس نکالنا بھی جانتا تھا ۔۔۔۔۔ دوسری طرف صدف بھی کم نہ تھی ، اسے بھی مزے میں رس بھرنا اچھی طرح آتا تھا ۔۔۔۔
صدف کے ساتھ اس کا تجربہ سب سے خوشگوار ، انوکھا اور یاد گار تھا ۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کی ہر جنبش کو محسوس کر کے اس کی ہر بے قراری پر حقیقی ساتھ دے رہی ہے ۔
صدف کے ہمراہ لفظی ملن کے بعد اس کی نوجوانی کے دن جیسے واپس لوٹ آئے تھے ۔اسے لگا کہ اب تک جو بھی لڑکیاں یا عورتیں اسے ملی تھیں وہ سب ایک طرف اور صدف ایک طرف تھی ۔ صدف کی ہر بات ہی نرالی تھی ، وہ وصال کے تمام مزے لینے والی زندگی سے بھرپورعورت تھی ۔
نیاز کو صدف کی عادت ہوچکی تھی ۔ وہ آن لائن آتے ہی صرف اس کے میسج دیکھتا ، اس کے جدیدیت سے بھرپوراسٹیٹس پڑھتا ، پھر اس کے دیگر دوستوں کو اس کے اسٹیٹس پرتعریفی کلمات دیکھ کے جلتا اور کڑھتا ۔ صدف ان سب کی جھوٹی تعریفوں پر نخرے دکھاتی ،اٹھلاتی اور کھلکھلاتی ۔
اسے صدف کا ہر ایرے غیرے سے فری ہوجانا بے حد کھلنے لگا تھا ۔ ایک ہی ماہ میں وہ اس کے اتنے نزدیک آچکی تھی کہ وہ اسے ہردم اپنی روح میں محسوس کرنے لگا تھا ۔۔ وہ چاہتا تھا کہ صدف صرف اسی سے بات کرے اور وہ بارہا اس خیال کا اظہار صدف سے کرتا تھا ۔ وہ حسب عادت اسے مذاق میں ٹالتی اور گھما پھرا کے اصل مدعا پر لے آتی تھی ۔۔۔
وہ محسوس کررہا تھا کہ صدف اسے کئی دن سے یکسرنظرانداز کررہی ہے ۔ آن لائن ہوتے ہوئے بھی اس کو میسج نہیں کررہی ہے ۔ اس نے بھی ضد پکڑلی تھی کہ وہ خود ہی پہل کرے گی تو وہ اسے جواب دے گا ۔
صدف کے میسج کا انتظار کرتے کرتے بہت ساری راتیں بیت گیئں ۔ وہ روز آن لائن دکھائی دیتی مگر اسے میسج نہیں کرتی تھی ۔
آخر ایک رات اس نے ہی بے تاب دل کے ہاتھوں مجبور ہو کے پہل کر دی ۔
“آو باتیں کرتے ہیں ۔” اس نے ہمیشہ کی طرح لکھا ۔ یہ جملہ ان کے وصال کا کوڈ ورڈ تھا ۔ مگر اس نے یہ میسج پڑھنے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا بلکہ آف لائن دکھائی دی ۔
“سالی حرامزادی ۔ ۔۔ “بے اختیار اسے گالی دے کے نیاز نےتپ کے لیپ ٹاپ بند کردیا ۔
نیاز صدیقی ، صدف کے فراق میں بھرا ہوا تھا ،اس نے اپنا سارا غباراپنی بیوی پر اتار دیا ۔
صدف اگلی رات آن لائن دکھائی دی اوراس بار صدف نے میسج میں پہل کی۔” چلو باتیں کرتے ہیں ۔ ”
اسے صدف پر کئی راتوں سے غصہ آرہا تھا ۔ اس نے صدف کو کوئی جواب نہ دیا بلکہ آف لائن ہوکے بیوی کے ساتھ جا کے چمٹ گیا ۔ بیوی کو اس طرح کے جذباتی لمس سے خوشی مل رہی تھی ۔
پھراگلے دن اس نے صدف کو لکھا ۔ ” آوٗ باتیں کرتے ہیں ۔ ”
صدف نے پڑھنے کے باوجود اسے جواب نہ دیا ۔
وہ بھوکے بچوں کی طرح بیوی کی چھاتیوں سے چمٹ گیا ۔
کئی دن تک یہ ہی کھیل چلتا رہا کہ کبھی صدف کہتی ، کبھی وہ کہتا ۔ اور دونوں ہی بات کیے بنا آف لائن ہوجاتے ۔
بیوی اس کی گرم جوشی دیکھ کے چہک کےچھیڑنے لگی ۔ ” ایسا لگ رہا جیسے ابھی ہماری نئی نئی شادی ہوئی ہے ۔۔۔” وہ جھنجلا گیا ۔ اور صدف کو دل ہی دل میں گالیاں دینے لگا ۔۔
ایک دن نیاز صدیقی نے اپنی پرانی کرسی کی نئی سوتی رسی کو کسے ہوئے دیکھ کے بیوی سے کہا ۔ “اب اس کو مت کسوانا ۔ خواہ مخواہ پیسے خرچ ہوتے ہیں پرانی کرسی پر ،سوچ رہا ہوں اسے کباڑیئے کو ہی بیچ دوں ۔ ”
” ہایئں ! کیسے پیسے ۔۔ میاں اب یہ کرسی میں خود کٙسنے لگی ہوں ۔ اور پرانی چیزوں کو بیچنا نہیں چاہیئے ، ان کی مرمت کرواتے رہنا چاہیئے ۔۔۔ ”
” تم کو کیسے آیا رسی کٙسنا ؟ ”
” دنیا میں کوئی کام ناممکن بھی نہیں ہے جی ۔”
کہہ کر بیوی اپنے گھر کے کاموں میں لگ گئی ۔
نیاز صدیقی رات کو حسب عادت اسٹڈی روم میں اپنے لیپ ٹاپ پر فیس بک پر صدف کے میسج کا منتظر تھا ۔
بیڈروم میں بیوی نے ہنستے ہوئے نیاز صدیقی کو میسج کیا۔
” آوٗ باتیں کریں ۔ـ”

مریم تسلیم کیانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے