باندھ لی جاتی کمر کاٹ دیے جاتے تھے

باندھ لی جاتی کمر کاٹ دیے جاتے تھے
سبز ہوتے ہی شجر کاٹ دیے جاتے تھے

اب کہیں جا کے نظر آیا ہے گاوں میرا
پہلے نقشے سے یہ گھر کاٹ دیے جاتے تھے

عمر ہی کاٹی ہے تم نے یہ بڑا کام نہیں
اسکے کہنے پہ تو سر کاٹ دیے جاتے تھے

دستکیں دیتے ہوئے لوگوں کو معلوم کہاں
پہلی دستک پہ ہی در کاٹ دیے جاتے تھے

موسموں سوچتے رہتے تھے فضا کے بارے
اڑنا آتا تھا تو پر کاٹ دیے جاتے تھے

دانش نقوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔