بابِ حریمِ حرف کو کھولا نہیں گیا

بابِ حریمِ حرف کو کھولا نہیں گیا
لکھنا جو چاہتے تھے وہ لکھا نہیں گیا
خوئے گریز پائیٔ نقشِ قدم نہ پوچھ
منزل کی سمت کوئی بھی رستہ نہیں گیا
اک حرفِ محرمانہ لہو میں اُتر گیا
پھر اس کے بعد ہم سے بھی سوچا نہیں گیا
تفسیرِ آرزوئے وفا دھڑکنوں میں تھی
وہ چپ رہا تو ہم سے بھی بولا نہیں گیا
بے چینیوں نے ہم کو تماشا بنا دیا
محفل میں جا کے بیٹھے تو بیٹھا نہیں گیا
اس کے جلو میں بیٹھ کے دنیا کی کیا کہیں
ہم سے تو اپنی سمت بھی دیکھا نہیں گیا
نفرت ہمیں ملی نہ محبت ملی ہمیں
اپنی طرح سے کوئی بھی چاہا نہیں گیا
پتھر سے چشمہ پھوٹ پڑا میرے سامنے
اس سے بھی اشک آنکھ میں روکا نہیں گیا
سب کچھ وہ کر گزرتا ہمارے لیے مگر
لیکن وہ اپنے بخت میں لکھا نہیں گیا
اے سعدؔ تمکنت تھی بہت اس کے حسن میں
ہم سے تو دل پہ ہاتھ بھی رکھا نہیں گیا
سعد اللہ شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے