عذاب النار

عذاب النار

تجھ سے شکوے کی مجاز نہیں
بس ایک عاجزانہ ساسوال ہے
میرے مولا
ابراہیم تیرے برگزیدہ بندے
تونے دہکتی آگ کو ٹھنڈا کرکے
انہیں اپنے سایہ رحمت میں جگہ دی
تیرے اختیار کے آگے نمرود کے ارادے پسپا ہوئے
تونے دہکتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کردیا
پر وہ جلتے بدن جو جل جل کے راکھ ہوگئے
وہ بے بس سانس لیتے وجود
جو برگزید تونہیں تھے
پر دل کے کسی گوشے میں تیرے ہونے کایقین رکھتے تھے
وہ آگ کیوں نہ ٹھنڈی ہوسکی
کون گناہ گار ہے،خطاکار کون ہے
جب اس کا فیصل تو ہے معبود
توتاریک دلوں میں بسنے والا ابلیس
اس قدر بااختیار کیونکر ہوجاتاہے
ایک مدت ہوئی مذ ہب حبسِ بے جامیں ہے
ہجومِ ناہنجار اپنی فتنہ سامانیوں کے ساتھ
ہر سو متحرک ہے
مساوات،متروک لایعنی لفظ
کہنے والے
بڑے خلوص سے کہہ گئے
کرم سے پہچانے جاؤ گے
کسی کو کسی پہ فوقیت نہیں
مگر سنو، جو تقی ہے
اسے تو منظر نامے سے باہر کردیا گیا
سوکہاں ملے گا تقوی
ہاں مگر اس سب کے بعد بھی
مجھے کامل یقین ہے
میرے معبود
کہ کائنات کے جس حصے میں بھی جہنم ہوگی
جب بھی حشر برپا ہوگا
تب تو ان کھالوں کو ضرور دہکتی ہوئی آگ میں پھینکے گا
جوزمین پر
اپنی بدمست طاقت کے زعم میں
جس کوچاہے گناہ گار ٹھہراتے رہے

انجلا ہمیش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

2 comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے