آیتِ صبر پڑھی سینہ کشادہ کیا ہے

آیتِ صبر پڑھی سینہ کشادہ کیا ہے
منزلِ عشق پہ رہنے کا اعادہ کیا ہے
جس کے وعدے پہ ہم اک عمر گزارے ہوئے تھے
پھر اسی وعدہ فراموش نے وعدہ کیا ہے
پہلے تو خود کو اندھرے کی اذیت سے نکال
روشنی چھونے کا گر تونے ارادہ کیا ہے
عمر بھر مردہ روابط میں یہاں سانسیں بھریں
دل کی وسعت سے بھی یہ کام زیادہ کیا ہے
خود کو برباد جو کرنا تھا سو ہم نے طارق
بس محبت کو یہاں اپنا لبادہ کیا ہے
طارق جاوید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے