آئینہ اپنے روبرو کر کے

آئینہ اپنے روبرو کر کے
کیا ملا ہم کو گفتگو کر کے

اپنے رستے میں خار خود بوئے
ہم نے خوشیوں کی آرزو کر کے

ماسوا درد کے ملا کیا ہے
دنیا والوں سے گفتگو کر کے

ایک دل تھا جو ہو گیا پتھر
اپنے ارمانوں کا لہو کر کے

کٹ ہی جائے گی زندگی اپنی
دامنِ چاک کو رفو کر کے

شازیہ کس کو ہم کہیں اپنا
رو دیے آج آرزو کر کے

شازیہ طارق

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے