آئیے ذرا خود کو بھی ٹٹولیئے

آئیے ذرا خود کو بھی ٹٹولیئے

یہ غالبا 1978 کے کسی معتدل مہینے کی بہت ہی خوشگوار اور ملگجی سی شام کی ایک حسین یاد ہے – میں اپنے نانا مرحوم کے پاس بیٹھا اپنے کسی دوست کا تذکرہ اُس کی ذات میں موجود کسی خامی کے حوالے سے کر رہا تھا کہ اچانک مجھے نانا کے جھریوں بھرے بوڑھے چہرے پر پھیلی ہوئی کم نور آنکھوں میں ہیبت ناک اُداسی اور بلا کی پشیمانی کرب سے کراہتی ہوئی محسوس ہوئی- ایک لمبی آہ بھر کر وہ مجھ سے کہنے لگے کہ تقسیم سے بہت پہلے کی بات ہے کہ میرے ایک آفیسر نے مجھ سے کہا کہ اُسے لڑائی کیلئے (اصیل) مرغ درکار ہیں وہ مرغ پالنے اور اُنہیں لڑانے کا شوقین تھا- میں نے اُن سے کہا کہ وہاں سے کوئی دس کوس دور ایک گاؤں ہے اور وہاں اُن کا ایک دوست خیر دین جو نوٹنکی چلاتا ہے اُس کے پاس بہت عمدہ نسل کے مرغے ہیں اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہم وہاں چلے جاتے ہیں اور آپ کا مسئلہ اُمید ہے کہ حل ہو جائے گا- نوٹنکی اُس زمانے میں ماڈرن تھیٹر ہی کی کوئی قِسم تھی جس میں ناچ گانا اور بہت سے کرتب دکھائے جاتے تھے- نانا نے کہا کہ شام ہونے سے کچھ دیر قبل وہ اور اُن کا آفیسر گھوڑوں پر سوار ہو کر خیر دین کے گاؤں کی طرف عازمِ سفر ہوئے- مغرب سے کچھ دیر بعد جب وہ وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ قریبی گاؤں میں نوٹنکی لگائے ہوئے ہے اور اُس نے صبح واپس آ جانا ہے ہمیں وہاں قیام کیلئے کہا گیا مگر میرے آفیسر کے اشتیاق نے ہمیں وہاں نہ رُکنے دیا کیونکہ اُس نے کہا کہ چلو ہم بھی لفطف اندوز ہوں گے تو بہتر یہ ہی ہے کہ ہم اُسی گاؤں میں چلے جاتے ہیں سو ہم خیر دین سے ملنے اُسی گاؤں پہنچ گئے

ہمیں دیکھ کر اُس کی خوشی کی انتہا نہ رہی اُس نے محبت اور سرشاری سے دہکتے چہرے کیساتھ ہمارا پُر تپاک استقبال کیا- ہمارے لیئے بہت پُر تکلف کھانا بنوایا اور سب سے صاف بستر کاٹھ کی چارپائیوں پر ہماری استراحت و آرام کیلئے لگوائے نوٹنکی کے تقریبا سبھی ملازمین ہماری خدمت پر مامور کرتے ہوئے اُس نے ہم سے اجازت چاہی کہ وہ شو شروع کرنے لگا ہے اوہ جونہی شو ختم ہوگا وہ ہمارے ساتھ آ کر گپ شپ کرے گا- مگر میرے ساتھی افسر نے اصرار کیا کہ ہم بھی شو دیکھتے ہیں خیردین نے میری ظرف دیکھتے ہوئے مجھ سے کہا کہ محمدعلی تو کیا کہتا ہے میں نے بھی اپنے افیسر کی تائید کر دی- جب کپڑے سے بنی چار دیواری کے اندر ہم داخل ہوئے تو مٹی کی بھینی بھینی خوشبو جو شائد پانی کے چھڑکاؤ کے بعد آتی ہے نے ہماری سانسوں کو معطر کر دیا- اُس نے ہال میں رکھی نواڑی کرسیوں کی سب سے اگلی لائن میں ہیمں درمیان میں بٹھا دیا- اور ہم شو دیکھنے لگ گئے

بہت سے آئٹم پیش کیے گئے- آخر میں حاضرین کا سب سے پسندیدہ آئٹم ڈانس تھا- نوٹنکی چلانے والوں کو ہمارے معاشرے میں بہت سے عجیب ناموں سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ وہ روزی روٹی کیلئے اپنی بیٹیوں کو بھی اُس میں کام کرواتے ہیں- اور وہ آخری آئٹم جو ڈانس کا تھا وہ خیر دین کی بیٹی خود کیا کرتی تھی- جب ریکارڈ پر گانا چلا تو وہ ناچتی ہوئی سٹیج پر آئی تو پنڈال میں موجود سب تماش بینوں نے کھڑے ہوکر اور بازاری انداز میں اُسے خوش آمدید کہا – وہ ناچ رہی تھی اور لوگ اُس پر پیسے پھینک رہے تھے- میرا ساتھی آفیسر بھی بار بار جیب سے پیسے نکالتا اور اُس پر نچھاور کرتا- مجھے بھی محفل اور ماحول نے اُکسایا تو میں نے بھی ایک روپیہ جو اُس زمانے میں بہت اہمیت رکھتا ہوگا اُس ناچنے والی لڑکی پر لُٹا دیا- ہم دیر تک اس محفل سے محظوظ ہوتے رہے- درمیان میں ہمارے لیئے چائے اور پان وغیرہ کا بھی اہتمام خوب تھا ـ

شو ختم ہوا تو خیر دین ہمارے پاس اُسی محبت اور اپنائیت سے مسکراتا ہوا آیا اور ہمیں ہماری آرام گاہ تک چھوڑ کر کہنے لگا کہ تم لوگ بھی تھک گئے ہوگے اور مجھے بھی تھکن ہو رہی ہے آپ لوگ آرام کرو الصبح ہم یہاں سے نکلیں گے تو میں گھر جا کر آپ کو مرغے دے دوں گا- لہذا ہم واقعی تھکے ہوئے تھے اور لیٹتے ہی سو گئے- صبح ناشتے کیساتھ ہمیں بیدار کیا گیا ہم نے قُلی کی ناشتہ کیا اور خیر دین کیساتھ اُس کے گاؤں کیطرف روانہ ہوگئے- خیر دین کے گھر پہنچے تو آس نے مرغوں کا کُھڈا ( لکڑی کا بنا ہوا ایک بڑا سا ڈبہ جس میں مرغے رکھے جاتے ہیں) کھولا اور میرے ساتھی سے مخاطب ہوا کہ جتنے مرغے چاہیں لے لو- اور ساتھ ہی اپنی بیوی سے کھانا بنانے کیلئے کہا- میرے ساتھی نے اپنی پسند کے تین مرغے اُس میں سے نکال لیئے اور ہم نے اُسے کہا کہ کھانے کا تکلف ہرگز نہیں چلے گا کہ کچھ دیر پہلے ہی تو ہم ناشتہ کر کے آئے ہیں – مگر خیر دین بہت اصرار کرتے ہوئے مجھ سے کہنے لگا کہ محمدعلی اس کے بعد زندگی وفا کرے یا نہ کرے ہم دوبارہ ملیں یا نہ ملیں تم میرے گھر آئے ہو اور یہ مہمان نوازی کے اصولوں کے خلاف ہے کہ تم بنا کچھ کھائے پیئے چلے جاؤ- خیر اُس کی محبت کے سامنے ہم سے مزید انکار نہ ہوسکا

کھانا، چائے اور حُقہ سے فراغت کے بعد جب ہم اُس سے رخصت کی اجازت طلب کرنے لگے تو وہ بڑے گھمبیر اور آزردہ لہجے سے مجھ سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا کہ محمدعلی آج کے بعد ہم میں دوستی کا کوئی رشتہ نہیں – میں دُعا اور کوشش کروں گا کہ جیتے جی کبھی تمہارے سامنے نہ آؤں- نانا کہتے ہیں کہ مجھے یکدم یوں لگا کہ جیسے میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ہے اور میں نے لڑکھڑاتی آواز میں اپنا قصور پوچھا تو اُس نے کہا کہ کل رات جب میری بیٹی نوٹنکی میں ناچ رہی تھی تو سارا پنڈال اُس پر پیسے پھینک رہا تھا مگر تمہارا منصب نہیں تھا کہ تم اُس پر پیسے لُٹاتے کہ اُس سے تمہارا رشتہ بیٹی کا تھا کیونکہ میں نے ہمیشہ تمہیں دوست سمجھا ـ نانا کی آواز رُندھ گئی تھی اور اُس کی کم نور آنکھوں سے برستی رم جھم نے ماحول کو اور بھی یخ بستہ کر دیا کہ جس میں ٹھٹرتی ہوئی بے لباس بے چارگی اس کے وجود کی فصیلوں میں منجمد ہو کر دم توڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی –
آج جب میں ماضی کے بے رحم دشت میں بے دست و پا بھٹک رہا ہوں تو بہت سے رشتے اور تعلقات سوال بن کر میرے سامنے کھڑے ہیں اور اپنی سچائی اور دیانت سے نھبائے جانے کا حساب مانگ رہے ہیں ـ اور میں سوچ رہا ہوں کہ ہم اپنی تمام تر بد اعمالیوں اور انسانی کوتاہیوں کے باوجود اگر رشتوں اور تعلقات میں موجود خامیوں کو دل سے تسلیم نہ بھی کر یں تو کم از کم طنز ، تحقیر اور اور اُن کی تشہیر سے خود کو باز رکھ سکتے ہیں

محبوب صابر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے