آئیے خود سے سوال کریں

آئیے خود سے سوال کریں
سوشل میڈیا کی آزادی اور سہولت سے دستیابی نے بہت سے لوگوں کے اندر چُھپی صلاحیتوں کو آشکار کیا۔ بیشمار شُعراۓ کرام، اَن گنت نثر نگار، لاتعداد مفکرین اور دانشور، کثیر تعداد میں صحت، معاشرت، مذہب، سماجیات، اخلاقیات اور نفسیات کے مدرس ظہور پزیر ہوۓ۔ پھر اُس کے ساتھ ساتھ ہمارے سماجی تعلقات بھی اُسی سُرعت سے پروان چڑھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہم خیال اجنبی آپس میں یوں شناسا بلکہ دوست ہوگۓ کہ جیسے جنم جنم سے ایک دوسرے کیساتھ جُڑے ہوۓ ہوں۔ آغازِ مراسم میں اخلاقیات ، محبت اور باہمی عزت و تکریم کی مجسم تصویر بنے ایک دوسرے کی ذات میں سرائیت کر جانے کے جنون سے سرشار ، اپنے اپنے نقطئہ نظر پر شعوری، فکری اور علمی استدلال سے سجی دل موہ لینے والی نرم و ملائم گفتگو کی ہلکی ہلکی پھوہار برساتے ہوۓ رابطہ نمبروں کے تبادلے ، ملاقاتوں کے وعدے اور ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک رہنے کی خواہش سے پُر عظم لوگ کیوں چند ہی دنوں میں ایک دوسرے سے اُکتا جاتے ہیں؟؟؟
وہی جازیبت اور عقل و بینش سے مزین شخصیات کیوں عام سی اور بہت معمولی سی لگنے لگتی ہیں؟؟ روز اور ہر لمحہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے والے دنوں، ہفتوں ، مہینوں بلکہ برسوں ایک دوسرے سے رابطہ یا گفتگو تو درکنار پلٹ کر دیکھنا بھی گوارا تک نہیں کرتے۔۔۔! شائد یہ سب اُن شخصیات کا اَن دیکھا فسوں ہوتا ہے جسے ہم سب اپنے اپنے تخیلاتی نخلستانوں میں تخلیق کرتے ہیں اور اُن کے سبھی خال و خد بھی اتنے حسین تراشتے ہیں کہ جن سے ہم خود بھی مانوس نہیں ہوتے۔ مگر وہ سب کوئ ماورائ مخلوق نہیں ہوتے وہ سب انسان ہیں اور انسان بھی وہ کہ جو کوتاہیوں، خرابات اور بہت سی خامیوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہمارے معیارات بھی قدرے غیر حقیقی اور غیر مرعی ہوتے ہیں۔ ہم خود ہی اخلاقیات، ایثار، محت و وفاداری عزت و دلجوئ کے ایسے اصول و ضوابط وضع کر لیتے ہیں کہ جنہیں ہم نے ساری زندگی کبھی خود پر منطبق کرنے کا تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ ہم خود شتائشی کےناقابلِ علاج مریض بن کر ایسے آئینے ایجاد کر لیتے ہیں کہ جن میں سواۓ ہمارے ہر چہرہ بہت بھیانک اور نامکمل دکھائ دینے لگتا ہے۔ ہمیں اپنی آواز، اپنا شعور، اپنا سراپا، اپنی سوچ اور اپنا نظریہ اتنا مکمل اور ناقابلِ اصلاح محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ اپنی ذات کے گرد فلک بوس ایستادہ فصیلوں میں کوئ ایسا روزن بھی رکھنا منظور نہیں ہوتا کہ جہاں سے ہم تک کوئ ناپسندیدہ آواز بھی ہم تک پہنچ سکے۔
نتیجتاً ہم پھر اُسی تنہائ کا شکار ہو جاتے ہیں جسے رونق بخشنے کیلئے ہم نے کِسی کی جانب دستِ طلب دراز کیا ہوتا ہے۔ میری عقلی بساط کے مطابق اس کائنات میں سب سے بڑی سزا خود ستائشی اور اپنی ذات سے محبت ہے جو کسی بھی مبتلا شخص کو نہ ختم ہونے والے کرب سے دوچار کر دیتی ہے۔ اُس کیلئے آسائش و طمانیت کے سبھی راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور وہ ہر لمحہ، ہر پل ہر ساعت ایک ایسے خول میں مقید ہو جاتا ہے جہاں آہستہ آہستہ اُس کی اپنی ذات بھی دم توڑ دیتی ہے۔ اُس کا اپنا تشخص بھی مجروح ہوجاتا ہے۔ کِسی بھی شخص کو کسی صلاحیت کا ودیعت ہوجانا محض عطا اور کرم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کسی کو اگر خوش الحانی عطا ہی نہیں ہوئ تو ہزار ریاضت کے باوجودبھی وہ سُروں کو ملبوس نہیں کر سکتا۔ اسی طرح کوئ شاعر، ادیب یا مصور ہو ہی نہیں سکتا جب تک فطرت اُسے منتخب نہیں کرتی۔ یہ سب مِل بھی جاۓ تو شہرت و پزیرائ کا الگ نظام ہے۔
حرف یا فن میں برکت بھی ودیعت ہی کی جاتی ہے۔ اِس میں مسابقت، حسد اور ہاہمی افتراک کے باوجود کسی اُس شخص کو نہ تو زیر کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی محروم جس کے حرف و فن میں قدرت برکت ڈال دیتی ہے۔ سو پزیرائ نہ تو کسی کا استحقاق ہے اور ہی زرخرید غلام کہ جسے وہ جب چاہئے اپنی منشاء اور خواہش کے مطابق استعمال کرے۔ اگر کسی شاعر، ادیب، دانشور یا محقق کو صلاحیت کے ساتھ ساتھ برکت بھی عطا ہوئ ہے تو دوسروں کو نظر انداز کر کے یا اُن کے ساتھ تحقیرانہ طرزِعمل اختیار کر کے اس نعمت کی ناشکری کا ارتکاب ہرگز باشعور اور مہذب انسانوں کا وطیرہ نہیں۔ آپ کا سراہے جانا آپ کو مبارک مگر کسی کو نظر انداز کر کے اُس سے پزیرائ کی اُمید خود ستائشی جیسی ذہنی بیماری کی غمازی کرتی ہے۔ آئیئے ہم سب لکھنے لکھانے والے اپنے اپنے اندر جھانک کر دیکھیں کہ کہیں ہم بھی تو کسی ایسے مرض میں مبتلا نہیں ہوگئے جو ہم سے محبتوں کو متنفر کردے، جو ہمیں انسانوں سے دور کھینچ لے جاۓ اور ہم اتنے تعلقات اور بلا کی صلاحیتوں کی حامل بڑی شخصیات ہونے کے باوجود تنہائیوں اور بے توجہی کا شکار ہو جائیں۔
محبوب صابر
07 اپریل 2020 سیالکوٹ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے