Aye Gi Noor Ki Baraat

آئے گی نور کی بارات سفر کرتی ہوئی
تھک کے گر جائے گی جب رات سفر کرتی ہوئی

اب یہی سوچ کے پھرتا ہوں فسردہ تنہا
کتنی خوش تھی وہ مرے ساتھ سفر کرتی ہوئی

میں جو ٹھہرا تو مری کھوج میں میرے گھر تک
آ گئی گردش ِ حالات سفر کرتی ہوئی

یہی ایثار ہے اب میں اسے آگے بھیجوں
مجھ تک آئی ہے جو خیرات سفر کرتی ہوئی

اشک اس جوش سے نکلے ہیں کہ لگتا ہے رفیق
دشت، تک جائے گی برسات سفر کرتی ہوئی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے