آئینہ

میں فقط آئینہ ۔ ۔ ۔ میری بینائی میں
نفرتوں کا دھواں ہے نہ چاہت کی دھند
میں فقط آئینہ ۔ ۔ ۔ اور وہ سیمیں بدن
سر سے پاؤں تلک حسن کی داستاں
جب وہ نوخیز تھی
اپنی تصویر کے سحر میں مبتلا
آ کے پہروں ٹھہرتی مرے روبرو
میں فقط آئینہ
اس کے بت میں بھری دلکشی دیکھ کر
ماہِ کامل سے اٹھتی ہوئی روشنی
کو خدا جان کر
دل کی دیوار سے منسلک ہو گیا
میں فقط آئینہ ۔ ۔ ۔ وقت بے درد ہے
میری گہرائی میں
وہ جو اک شوخ لڑکی کو گم کر چکی
اب کئی ماہ سے
اشک سے آہ سے
دے رہی ہے صلہ میری سچائی کا
میری فطرت ہُوا
جس کی صورت سے شام و سحر دیکھنا
اس کے دیدار میں
اب کئی سال سے وہ تسلسل نہیں
میں فقط آئینہ ۔ ۔ ۔ اور وہ سیمیں بدن
دونوں مجبور ہیں
حسن کی آئینوں سے وفاداریاں
درد کی آزمائش سے بھرپور ہیں
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے