اے مجھ سے تجھ کو سو ملے تجھ سا نہ پایا ایک میں

اے مجھ سے تجھ کو سو ملے تجھ سا نہ پایا ایک میں
سو سو کہیں تونے مجھے منھ پر نہ لایا ایک میں
عالم کی میں نے سیر کی مجھ کو جو خوش آیا سو تو
سب سے رہا محظوظ تو تجھ کو نہ بھایا ایک میں
یہ جوش غم ہوتے بھی ہیں یوں ابرتر روتے بھی ہیں
چشم جہاں آشوب سے دریا بہایا ایک میں
تھا سب کو دعویٰ عشق کا لیکن نہ ٹھہرا کوئی بھی
دانستہ اپنی جان سے دل کو اٹھایا ایک میں
ہیں طالب صورت سبھی مجھ پر ستم کیوں اس قدر
کیا مجرم عشق بتاں یاں ہوں خدایا ایک میں
بجلی سے یوں چمکے بہت پر بات کہتے ہوچکے
جوں ابر ساری خلق پر ہوں اب تو چھایا ایک میں
سو رنگ وہ ظاہر ہوا کوئی نہ جاگہ سے گیا
دل کو جو میرے چوٹ تھی طاقت نہ لایا ایک میں
اس گلستاں سے منفعت یوں تو ہزاروں کو ہوئی
دیکھا نہ سرو و گل کا یاں ٹک سر پہ سایہ ایک میں
رسم کہن ہے دوستی ہوتی بھی ہے الفت بہم
میں کشتنی ٹھہرا جو ہوں کیا دل لگایا ایک میں
جن جن نے دیکھا تھا اسے بے خود ہوا چیتا بھی پھر
پر میر جیتے جی بخود ہرگز نہ آیا ایک میں
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے