اے مرے حسیں لوگو!

اے مرے حسیں لوگو!

زندگی کے پہلو سے
گرچہ روز اُٹھتے ہو
جاگتے نہیں لوگو
اے میرے حسیں لوگو!
رات ظلمتیں لے کر
کب سے آن سوئی ہے
نیند کتنی صدیوں کی
آنکھ میں سموئی ہے
یہ سکوتِ شب مجھ کو
مثلِ مرگ لگتا ہے
سہما سہما بھیگا سا
رُوئے برگ لگتا ہے
اور یہ سادگی ا ب تک
تم نوائے بلبل کو
گیت ہی سمجھتے ہو
اور جرس کے نالے پر
اب بھی سر کو دُھنتے ہو
کیا تمہیں بھی کلیوں کا
سینہ چاک دِکھتا ہے؟
کیا تمہیں بھی لالہ کے
دل کا داغ دِکھتا ہے؟
جس کو بخت کہتے ہو
اُس کی روشنی تُم نے
خود عدو کو سونپی ہے
اے مرے حسیں لوگو!
کاش زندگی تم کو
اتنی مہلتیں دے دے
تُم خود اپنے ہاتھوں سے
زندگی کے قصے کو
یعنی اپنے حصّے کو
لوحِ وقت پر لکھو

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے