آواز ہماری سے نہ رک ہم ہیں دعا یاد

آواز ہماری سے نہ رک ہم ہیں دعا یاد
آوے گی بہت ہم بھی فقیروں کی صدا یاد
ہر آن وہ انداز ہے جس میں کہ کھپے جی
اس مخترع جور کو کیا کیا ہے ادا یاد
کیا صحبتیں اگلی گئیں خاطر سے ہماری
اپنی بھی وفا یاد ہے اس کی بھی جفا یاد
کیفیتیں عطار کے لونڈے میں بہت تھیں
اس نسخے کی کوئی نہ رہی حیف دوا یاد
کیا جائے کہی بوس لب یار کی لذت
جب تک جئیں گے ہم کو رہے گا وہ مزہ یاد
جی بھول گیا دیکھ کے چہرہ وہ کتابی
ہم عصر کے علامہ تھے پر کچھ نہ رہا یاد
سب غلطی رہی بازی طفلانہ کی یک سو
وہ یاد فراموش تھے ہم کو نہ کیا یاد
کعبے تو گئے بھول کے ہم دیر کا رستہ
آتا تھا ولے راہ میں ہر گام خدا یاد
اک لطف کے شرمندہ نہیں میر ہم اس سے
گو یاں سے گئے ان نے بہت ہم کو کیا یاد
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے