آوازِ آدم

آوازِ آدم
دبے گی کب تلک آوازِ آدم ہم بھی دیکھیں گے
رکیں گے کب تلک جذبات برہم ہم بھی دیکھیں گے
چلو یونہی سہی یہ جورِ پیہم ہم بھی دیکھیں گے
در زنداں سے دیکھیں یا عروجِ دار سے دیکھیں
تمہیں رسوا سرِ بازارِ عالم ہم بھی دیکھیں گے
ذرا دم لو مآلِ شوکتِ جم، ہم بھی دیکھیں گے
یہ زعمِ قوتِ فولاد و آہن دیکھ لو تم بھی
بہ فیض جذبۂ ایمان محکم ہم بھی دیکھیں گے
جبینِ کج کلاہی خاک پر خم، ہم بھی دیکھیں گے
مکافاتِ عمل، تاریخ انساں کی روایت ہے
کرو گے کب تلک ناوک فراہم، ہم بھی دیکھیں گے
کہاں تک ہے تمہارے ظلم میں دم ہم بھی دیکھیں گے
یہ ہنگامِ وداع شب ہے، اے ظلمت کے فرزندو
سحر کے دوش پر گلنار پرچم ہم بھی دیکھیں گے
تمہیں بھی دیکھنا ہو گا یہ عالم ہم بھی دیکھیں گے
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے