عورت کی کہانی

عورت کی کہانی

ماضی کی یادیں، مجھے کبھی دہلا دیتی ہیں۔ ہمارے زمانے میں ریڈیو ٹی وی پر مشاعرے ہوتے تھے تو فہرست میں آخری نام میرا یا امجد کا ہوتا تھا۔ اب عالم یہ ہے کہ ہم لوگ صدارت کی کرسی پر بیٹھتے ہیں۔ بالکل ہمارے زمانے میں جسٹس کارنیلس، جسٹس کیانی اور جسٹس دراب پٹیل اور وکیلوں میں اعجاز بٹالوی، اقبال حیدر اور عاصمہ جہانگیر وہ لوگ تھے جو ہمارے مقدمے بلا کم و کاست لڑتے اور ہماری حفاظت کرتے تھے۔ اب ہمارے پاس صرف اعتزاز احسن اور رضا ربانی رہ گئے ہیں۔ ویسے تو حنا کو اللہ سلامت رکھے اور نئی آنے والی وکیلوں کو بھی کہ وہ عاصمہ سے بہت کچھ سیکھ چکی ہیں، اب ہمیں عابد منٹو کی زندگی کی دعا کرنی چاہیے۔

عورت چاہے وکیل ہو کہ کسی بھی شعبے میں جس میں بھٹہ مزدور بھی شامل ہیں، اس کی زندگی میں شادی کے بعد ایک مرحلہ آتا ہے کہ اسے حمل ٹھہرتا ہے۔ سوائے بیگمات کے، کہ ان کے نخرے ہی نرالے ہوتے ہیں، ساری گھریلو سے لے کر مزدور عورتیں، پورے نو مہینے گھر سے دفتر تک کام کرتے گزارتی ہیں اور بیشتر کی زندگی میں بچہ پیدا ہونے والا دن، چھٹی کا پہلا دن ہوتا ہے۔ جو مشترکہ خاندانی نظام میں تو وہ چھٹی بس ایک ہفتے پر مشتمل ہوتی ہے۔

ہمارے ملک میں نوکری پیشہ خواتین کو چھ ہفتے پہلے اور چھ ہفتے بچے کی پیدائش کے بعد چھٹی ملتی ہے۔ باقی ساری مغربی دنیا میں عورت کو بچے کی پیدائش کے بعد، تین ماہ اور اس کے بعد اس کے شوہر کو تین ماہ کی چھٹی ملتی ہے۔ سکنڈ نیوین ممالک میں تو میاں بیوی بیک وقت چھ ماہ اور کبھی یکے بعد دیگرے ایک سال تک بچے کی نشوونما کے لیے چھٹی پر رہ سکتے ہیں۔

پاکستان میں ملازم عورتوں کو دفتروں میں بھی لوگ کہنے سے نہیں چوکتے کہ کیاایسی حالت میں گھوم رہی ہو، ہمیں تو دیکھ کر ہی شرم آتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بی بی بے نظیر آخری مہینے تک جلسے کرتی رہتی تھیں، لاہور میں تو جب وہ سیڑھی پر چڑھ رہی تھیں تو ہم سب عورتیں ان کی اور بچے کی زندگی کی دعائیں کررہی تھیں۔ وہ جب بطور وزیراعظم بلاول کو گود میں لیے جہاز سے کسی مغربی ملک میں اتری تھیں تو وہاں کی ساری عورتوں اور اخبارات نے تحسین لکھی تھی۔ دنیا بھر کے عظیم مصوروں نے حاملہ عورتوں کی تصویر اس لیے بنائی ہیں کہ ان کے بقول خاتون بچے کی پیدائش سے پہلے بہت خوب صورت لگتی ہے۔

جانوروں میں خاص کر مورنی، اپنے بچے کے پاس ایک ماہ تک نہیں آنے دیتی ہے کہ وہ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی اپنا کونہ تلاش کرکے وہاں بیٹھ جاتی ہے۔ ہم لوگ پریگننسی میں جب ریڈیو ٹی وی اور دفتروں کو جاتے تھے تو سارے مرد، اس کو شرم ناک حرکت کہتے تھے، اب بھی کون سا زمانہ بدل گیا ہے۔ یہ بھی بڑی عجیب بات ہے کہ جب عورت لڑکی کو جنم دے تو وہ مسکراہٹ ان کے پاس نہیں آتی جو بیٹوں کے لیے، سینہ تان کے ان کو کھڑا کرتی ہے۔

نصرت جاوید کی دو بیٹیاں ہیں، مریانہ بابر کی بھی دو بیٹیاں ہیں، بی بی بینظیر اور عاصمہ جہانگیر کی بھی دو بیٹیاں ہیں، اللہ ان سب کو اور اقبال حیدر، اصغر ندیم سید کی بھی دو بیٹیوں کو سلامت رکھے کہ اب زندگی گزار کر سب سمجھ رہے ہیں کہ بیٹے تو چاہے ملک میں رہیں کہ غیرممالک چلے جائیں، وہ اپنے خاندان سے اکثر ماں باپ کو خارج کردیتے ہیں۔ بہت سے ایدھی ہوم یا اولڈ پیپلز ہوم میں چھوڑ جاتے ورنہ مزید گستاخ تو سڑک کے کسی کونے میں باپ یا ماں کو چھوڑ کر اپنے گھر کی جنت کی سمت چلے جاتے ہیں۔ بہت عزت کریں گے تو نوکر کے پچھواڑے کمرے میں ڈال دیں گے۔البتہ صبح شام سلام کرنے کی حاضری لگانے والے بھی بہت دیکھے ہیں۔

دفتروں، عدالتوں اور بازاروں میں بھی حاملہ خاتون کو طرح طرح کے جملے سننا پڑتے ہیں۔ یہ بھی ہمارے ملکوں خاص کر مسلمان ملکوں کا وطیرہ ہے۔ یوکرین ہو کہ دیگر غریب ممالک وہاں تو عورت کی کوکھ کرائے پر دستیاب ہے۔ دودھ پلائی رکھنے کی رسم تو ابھی تک ہمارے جاگیردار گھرانوں میں رائج ہے۔ یہ جو ہمارے ملکوں میں کہا جارہا ہے کہ گروسٹیٹ بچے پیدا کیے گئے، وہ اس طرح کہ کرائے کی کوکھ سے بچے لیے جاتے ہیں۔ اس غربت پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ تو قابل توجہ سمجھا ہی نہیں جاتا۔

اب جبکہ ساری دنیا میں شور مچا ہے کہ پاکستان میں ہر 22 بچوں میں سے ایک بچہ فوت ہوجاتا ہے۔ اس طرح بار بار کہا جارہا ہے کہ ماں بچے کی حفاظت کی جائے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ نہ کوئی شادی سے پہلے کا کوئی مشورہ کلینک ہے اور نہ بعد کے لیے۔ اگر کوئی شروع کرے تو کہا جائے گا یہ تو بے شرمی کی بات ہے۔اب جبکہ ہر روز تین چار بچوں کے ساتھ زیادتیوں کی خبریں آرہی ہیں تو کچھ میڈیا نے بھی ناصحانہ قسم کے اشتہار دینے شروع کیے ہیں۔ فکر کیا کریں، انڈیا کی ایک لڑکی کی آنکھ مارتے ہوئے تصویر کیا وائرل ہوئی کہ ابھی کل سے ہی اشتہاروں میں بھی لڑکیاں آنکھ مار رہی ہیں۔

کچھ سبق ہم برادر ملک کے کھلتے ہوئے بیوٹی پارلرز سے لگالیں۔ اپنے گزشتہ فوجی سربراہ کے ڈانس ہی کو دیکھ لیں۔ ہمارے ملک خاص کر، کے پی میں ہر شہر میں گانے والی کو گولی ماری جارہی ہے۔ ابھی ہمیں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت ملی ہے، عورت کو بھی بمشکل تین ماہ کی مہلت ملتی ہے کہ پھر وہ حاملہ ہوجاتی ہے۔ پھر بچے کیوں نہ مریں۔

کشور ناہید

روزنامہ جنگ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے