عورت اور محبت

عورت ایک ایسی پہیلی ہے جسے صدیوں سے ہر قوم ’ ملک اور عہد کے ادیب ’ شاعر اور دانشور بوجھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جونہی وہ پہیلی بوجھنے کے قریب ہوتے ہیں اس پہیلی کی کوکھ سے ایک اور پہیلی’ ماں کی کوکھ سے ایک نئی بیٹی پیدا ہوجاتی ہے ،جو پہلی پہیلی سے زیادہ پیچیدہ ’ گنجلک اور پُراسرار ہوتی ہے اور ادیب شاعر اور دانشور اس نئی پہیلی کو بوجھنے کی کوشش میں غزلیں ’نظمیں ’ مقالے اور افسانے لکھنے لگتے ہیں اور عالمی ادب کے ذخائر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اسی لیے علامہ اقبال نے فرمایا تھا
؎ وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

چونکہ ہم صدیوں سے پدرسری نظام کا حصہ ہیں اس لیے تمام مذاہب اور تمام فلسفے مردوں نے بنائے ہیں جو ان مذاہب اور فلسفوں میں ہمیں عورت کی نفسیات کے راز بھی بتانے کی کوشش کرتے آئے ہیں ۔

جب عورتوں کو اندازہ ہوا کہ ان کی نفسیات کا غلط تعارف اور ان کے مسائل کی غلط تفہیم ہو رہی ہے تو انہوں نے اپنی کہانی خود لکھنی شروع کی اور خود ہی اپنے مسائل پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی۔
بیسویں صدی کے عالمی ادب میں مغرب کی بے ٹی فریڈین ’ سیمون دی بوژوا’ اینائس نن اور ورجینیا وولف کی اور مشرق میں فروغ فرح زاد’ کشور ناہید ’فہمیدہ ریاض ’عشرت آفرین جیسی شاعرات اور قراہ العین حیدر’ بانو قدسیہ ’ نیلم احمد بشیر اور زاہدہ حنا جیسی نثر نگاروں کی تخلیقات نے ہمارا تعارف عورتوں کے جدید مسائل سے کروایا اور عورتوں کے مردوں سے رشتوں کے بارے میں ایک نئے انداز سے سوچنےکی دعوت دی۔
پچھلے چند سالوں میں اردو کی خواتین لکھاریوں کی محفل میں ایک نئی لکھاری کا اضافہ ہوا ہے جس کا نام روبینہ فیصل ہے۔ روبینہ فیصل اپنے افسانوں کے نئے مجموعے”گم شدہ سائے” میں اپنے نسوانی کرداروں کے حوالے سے ہمیں بتاتی ہیں کہ ایک عورت اپنے دل کے نہاں خانوں میں کونسی خواہش۔۔کون سی آس،کون سی امید،کون سی آرزو،کون سا خواب اور کون سا آدرش چھپائے رکھتی ہے۔ وہ اپنے جذبات اور خیالات کا کھل کر اظہار کیوں نہیں کرتی اور اگر کسی مرد سے اس کا اظہار کرتی ہے تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔
روبینہ فیصل نے اپنے افسانوں میں عورتوں کی محبتوں اور اذیتوں’ خوشیوں اور غموں’ دکھوں اور سکھوں کی ایک کہکشاں پیش کی ہے۔ وہ اپنے قاری کو ایک نئی دنیا سے روشناس کراتی ہیں۔ روبینہ کے افسانوں کے نسوانی کردار جو کہانی سناتے ہیں ان کے بارے میں کہا جا سکتا ہے
؎ آرزو اور آرزو کے بعد خونِ آرزو
ایک مصرعہ میں ہے ساری داستانِ زندگی
روبینہ کے افسانوں کے نسوانی کردار محبت کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ان کے لیے محبت ایک سراب کی طرح ہے۔ وہ جتنا اس کے پیچھے بھاگتے ہیں وہ سراب اتنا ہی دور ہوتا جاتا ہے۔محبت کو نہ پانا اور پا کر کھو دینا ان کی ذات اور زندگی کا المیہ بن جاتے ہیں۔ میں اپنے موقف کی وضاحت کے لیے ان کے افسانے ۔۔۔محبت کی آخری کہانی۔۔۔۔کا ذکر کرنا چاہوں گا جو روبینہ فیصل کی افسانہ نگاری اور عورتوں کے مسائل کو سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اس افسانے کی ہیروئن ایک ایسی لڑکی ہے جو ایک شہزادے ایک ہیپی پرنس کی تلاش میں ہے اور جب اسے وہ شہزادہ مل جاتا ہے تو وہ اسے اپنے دل کے سارے راز اور سارے خواب بتا دیتی ہے اور پھر اس سے سوال پوچھتی ہے۔۔
‘ بس مجھے یہ پتہ ہے وہ جو سامنے جھاڑی میں اُگے پھول ہیں میں ان کو حاصل نہیں کر سکتی کیونکہ ان کے ساتھ اُگے ہوئے کانٹے میرے ہاتھوں کو لہولہان کر دیتے ہیں۔۔۔کیا دنیا میں کوئی ایسے پھول ہیں جن کو میں چھوؤں تو میرے ہاتھ زخمی نہ ہوں؟’
اور وہ مسافر شہزادہ وہ ہیپی پرنس اس لڑکی سے وعدہ کرتا ہے
‘ہاں کیوں نہیں اور میں تمہیں ایسے پھول لا کر دوں گا جن کے ساتھ کوئی کانٹے نہیں ہونگے اور انہیں تمہارے بالوں میں لگاؤں گا’
لڑکی جو ‘ساری عمر بے اعتباری کی ڈسی ہوئی تھی’ کہتی ہے کہ تم مسافر ہو ایک دن مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ گے مجھے داغِ مفارقت دے کر رخصت ہو جاؤ گے اور میں اکیلی رہ جاؤں گی ۔ یہ باتیں سن کر شہزادہ مسکراتا ہے اسے تسلی دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے
‘ میں مسافر ہوں نگر نگر گھومتا ہوں ۔ میرا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہے مگر اب مجھے یہیں رکنا پڑے گا۔۔۔’
‘کیوں؟’ لڑکی نے حیرت سے پلکیں جھپکائیں
تم نے اتنے سارے کام جو بتا دیے ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے ایک پوری عمر چاہیے اس لیے اب میں عمر بھر یہیں رہوں گا’
‘سچ؟’ لڑکی خوشی سے چلائی اور اس کے سینے سے چمٹ گئی’
لیکن پھر وہ لڑکی خواب سے بیدار ہو گئی وہ خواب جو سراب تھا۔ اسے احساس ہوا وہ مسافر وہ شہزادہ وہ ہیپی پرنس ایک سراب تھا۔

روبینہ فیصل لکھتی ہیں
‘ لڑکی کو مسافر کی تلاش میں حواس باختہ ادھر ادھر بھاگتے دوڑتے دیکھ کر ایک گوری بوڑھی عورت نے اس کے پاس رک کر اسے اپنے تجربے کے زور پر سمجھاتے ہوئے کہا
‘وہ مسافر تھا نا؟’
‘نہیں وہ ہیپی پرنس تھا ۔۔۔لڑکی نے جیسے اس بوڑھی کی بات سنی ہی نہ ہو’
‘ہجرتوں کے اس موسم میں سب مسافر ہی چلے جایا کرتے ہیں’۔ بوڑھی نے بھی جیسے لڑکی کی بات سنی ہی نہ ہو
‘نہیں وہ کبھی مسافر ہوا کرتا تھا مگر اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اب وہ سفرکا پہیہ روک دے گا اور یہیں میرے پاس رہے گا’ وہ بوڑھی کو تفصیل سے سمجھانے لگی
‘ مسافر کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتے ہیں’ بوڑھی عورت نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔ ان کے بغیر جینے کی عادت ڈالنی چاہیے۔
‘نہیں وہ سفر سے بہت تھک گیا تھا ۔وہ صرف میرے لیے زندہ ہوا تھا۔ اس میں چلنے کی سکت بھی نہیں تھی، وہ کیسے جا سکتا ہے۔۔۔اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مسافر نہیں رہے گا۔۔۔’
‘اس کے بغیر جینا سیکھ لو’۔۔۔انگریزی بوڑھی نے اپنے کتے کو پچکارتے ہوئے لڑکی کو سمجھایا۔۔۔لڑکی نے سہم کر بوڑھی کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں کسی کے لمبے انتظار کی قبر بڑی واضح کھدی ہوئی تھی۔ جس پر اسے اپنا کتبہ نظر آیا اور وہ خزاں کے پتے کی طرح کانپنے لگی’

اگر ہم روبینہ فیصل کے اس افسانے کے دو نسوانی کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ مشرقی لڑکی آج بھی اپنے خوابوں کے شہزادے کے انتظار میں ہے۔ اور اس انتظار میں وہ نجانے کتنے مردوں سے ملتی ہے جو اس سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور وہ بے اعتباری اور بے اعتمادی سے کئی بار ڈسے جانے کے باوجود نئے شہزادے کے وعدوں پر اعتبار کرتی ہے جو ایک دن اسے چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور وہ اپنے زخم چاٹتی رہ جاتی ہے۔ دکھی ہو جاتی ہے۔ اداس ہو جاتی ہے۔ ڈیپریشن کا شکار ہو جاتی ہے۔

ماہرین نفسیات جانتے ہیں کہ عورتیں مردوں سے تین گنا زیادہ ڈیپریشن کا شکار ہوتی ہیں اور وہ اس لیے کہ انہوں نے جن مردوں سے محبت کی تھی۔۔۔شادی کی تھی۔۔۔انہیں اپنے خوابوں میں سجایا تھا وہ انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں کسی اور حسینہ کی زُلف کے اسیر ہو جاتے ہیں۔ اور وہ تنہا رہ جاتی ہیں۔ احساسِ تنہائی ان کے لیے سوہانِ روح بن جاتا ہے۔

افسانے میں مشرقی عورت کو مغربی عورت اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ بتانا چاہتی ہے کہ اگر اسے زندہ رہنا ہے خوش رہنا ہے اور عزت سے رہنا ہے تو اسے اکیلے رہنا سیکھنا ہوگا۔ لیکن مشرقی عورت جب اس مغربی عورت کی آنکھوں میں جھانکتی ہے تو اسے وہاں بھی دکھ کے سائے ہی نظر آتے ہیں۔

روبینہ فیصل یہ کہنا چاہتی ہیں کہ مغربی عورت نے اکیلے رہنا تو سیکھ لیا ہے لیکن اکیلے خوش رہنا نہیں سیکھا۔

روبینہ کے اس افسانے کی کوکھ سے عورتوں کی آزادی اور خود مختاری اور خوشحالی کے بہت سے سوال پیدا ہوتے ہیں۔
کیا عورت کی خوشحالی کے لیے اس کا کسی محبت بھرے رشتے میں ہونا ضروری ہے؟
کیا کوئی عورت اکیلے خوش نہیں رہ سکتی؟

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ایک روایتی عورت چاہے وہ مشرق کی ہو یا مغرب کی ایک محبت کرنے والےمرد کے بغیر خوش نہیں رہ سکتی لیکن بہت سی آزاد منش فیمنسٹ عورتوں کا موقف ہے کہ اگر عورتیں معاشی طور پر آزاد اور نفسیاتی طور پر خود مختار ہو جائیں اور مردوں کی دست نگر نہ رہیں تو وہ اپنے باپ۔۔۔بھائی۔۔۔شوہر۔۔۔بیٹے کی حاکمیت اور کنٹرول سے آزاد ہو جاتی ہیں۔ وہ نا صرف اکیلے رہ سکتی ہیں بلکہ خوش بھی رہ سکتی ہیں۔ پھر وہ صرف ایسے مردوں کے ساتھ رہتی ہیں جو ان کی عزت کرتے ہیں ان کا احترام کرتے ہیں ان سے محبت کرتےہیں اور اگر ایک دن وہ ان سے محبت کرنا، ان کی عزت کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ بھی انہیں چھوڑ دیتی ہیں ۔

‘محبت کی آخری کہانی’ کی طرح روبینہ فیصل کے کئی اور افسانوں کا موضوع بھی مرد عورت کی دوستی ’ رشتہ’ تعلق اور محبت ہے۔وہ محبت جو بہت سی آزمائشوں اور قربانیوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ بہت سے نفسیاتی مسائل اور سماجی الجھنوں کا شکار ہو جاتی ہے۔بہت سے دل ٹوٹ جاتے ہیں،
ذہن پریشان ہو جاتے ہیں
من بھاری ہو جاتے ہیں
انائیں زخمی ہو جاتی ہیں
روحیں لہو لہان ہو جاتی ہیں

مرد اور عورتیں ایک دوسرےکے قریب آتے ہیں پھر دور ہو جاتے ہیں پھر قریب آتے ہیں پھر دور ہو جاتے ہیں۔ کچھ گتھیاں الجھ جاتی ہیں اور کچھ گتھیاں سلجھ جاتی ہیں۔ قربتوں اور دوریوں ’ محبتوں اور اذیتوں کا یہ سفر ساری عمر جاری رہتا ہے۔

روبینہ فیصل کا افسانہ ‘ ایک ڈائری’ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو بظاہر سکھی لیکن اندر سے دکھی ہے۔ وہ ساری عمر اپنے دل کا راز چھپائے رکھتی ہے جو اسے اندر سے دیمک کی طرح کھاتا رہتا ہے اور اسے جذباتی طور پر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ وہ اپنا راز اپنی ڈائری سے شیئر کرتی ہے اور جب اس کے مرنے کے بعد اس کی سہیلی اس کی ڈائری پڑھتی ہے تو اس پر محبت کا راز افشا ہوتا ہے۔ وہ محبت جو ایک سراب اور ایک عذاب سے کم نہ تھی۔ روبینہ فیصل لکھتی ہیں۔۔
‘ شمسہ اور اس کا شوہر ایک عجیب سے رشتے میں بندھے ہوئے تھے جس میں رہ کر انہوں نے نہ ایک دوسرے کو چھوڑا تھا اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ تھے۔بس ندی کے دو کناروں کی طرح ساتھ ساتھ سینہ چوڑا کیے اپنی اپنی انا کی آگ دہکائے کھڑے تھے۔’

یہ کہانی ہمارے عہد کے نجانے کتنے جوڑوں کی کہانی ہے جس میں عورت اپنے دکھ ’اپنے غم اور اپنے سچ کا کسی سے اظہار نہیں کر سکتی اور اس کی منافقت بھری محبت پہلے اسے نفسیاتی مسائل کا شکار کرتی ہے اور پھر اسے خود کشی کے قریب لے جاتی ہے۔

روبینہ فیصل کا افسانہ ‘فینکس’ تین عورتوں کی محبتوں کے المیوں کی کہانی ہے۔
پہلی عورت کی محبت یک طرفہ ہے ۔‘ اسے بتانا ہی پڑے گا کہ یک طرفہ محبت کا غم ایسے ہی ہے جیسے پیٹ میں ہی بچہ مر جائے‘
دوسری عورت کو پتہ چلتا ہے کہ اس کی محبت جھوٹی محبت ہے اور وہ پہلی عورت سے کہتی ہے ‘ یک طرفہ محبت کا ماتم نہ کر جھوٹی محبت کے ڈسے انسان کی اذیت کا اندازہ کر۔۔۔’
تیسری عورت نے اپنی محبت سے شادی کر لی لیکن پھر اس کے محبت کے خواب شرمندہِ تعبیر ہونے کی بجائے چکنا چور ہو گئے۔ اس نے باقی دو عورتوں سے کہا ‘ چپ کرو کم بختو !۔۔۔تم دونوں ہی فضول کہانیاں ہو۔ ایک بدبخت اس محبوب کو بیٹھی رو رہی ہے جس نے اس سے محبت کی ہی نہیں اور دوسری اس دھوکے کو رو رہی ہے جو خود کھانے سے پہلے کسی اور کو دے چکی تھی۔یہ بھی کوئی دکھ ہیں ؟۔۔۔دکھ تو میرا ہے جو اتنا معتبر ہے کہ اس قلم سے نکلتا ہی نہیں۔ اس صفحے پر اترتا ہی نہیں۔۔۔۔تم لوگ اپنی روح اور جسم کی تباہی کو رو رہی ہو۔۔۔میرا تو سمجھو خود پر اعتماد’ میری پہلی محبت کا غرور’ اپنی پاکیزگی پر مان’ اپنی معصومیت پر فخر’ سب بکھر گیا تھا’ ٹوٹے ٹوٹے ہو گیا تھا اور جب یہ سوچتی ہوں کہ کسی کو پتہ چل جائے تو کیا ہوگا تو لگتا ہے بس میری موت ہی ہوگی اور باقی تو کچھ نہیں بچا ہونے والا۔’

روبینہ فیصل کے اس افسانے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کی ہر عورت اپنی محبت کی صلیب اٹھائے پھر رہی ہے جو وقت کے ساتھ بھاری ہوتی جا رہی ہے۔محبت مشرقی اور مغربی عورت کا المیہ بنتی جا رہی ہے۔

روبینہ فیصل اپنے افسانے ‘صلح نامے’ میں مرد عورت کے اس ازلی و ابدی امتحان ’اس آزمائش اور اس امتحان کی تشخیص ان الفاظ میں کرتی ہیں
‘ کیوں نہ ہم مان لیں کہ ہماری زندگیاں اسی سپائڈر نیٹ میں الجھ کر رہ گئی ہیں۔ وہ جالا کٹتا ہی نہیں۔۔نہ تمہاری جفا سے نہ میری وفا سے۔۔۔نہ تمہارے کسی جھوٹ سے نہ میرے کسی سچ سے۔۔۔نہ تمہاری عقل سے نہ میرے پاگل پن سے۔۔۔نہ میرے ‘کالے غصے’ سے نہ اسے برداشت کرنے والی تمہاری ‘ جناتی طاقت’ سے۔۔۔نہ تمہاری وقتی اکتاہٹ سے نہ میرے مستقل روٹھنے سے۔۔۔نہ محبت کی ہونے والی بار بار توہین سے نہ بار بار خود کو چھڑا کر بھاگ جانے کی کوششوں سے۔۔۔نہ زمانے کے ان رواجوں سے اور نہ مذہبی بندھنوں سے۔۔۔’
اور پھر روبینہ اس ازلی و ابدی مسئلے ۔۔امتحان۔۔۔آزمائش۔۔۔کا حل ان الفاظ میں تجویز کرتی ہیں
‘ تو آؤ ! ایک دوسرے کی پناہ میں آ کر خوشی خوشی یہ شکست مان لیں اور میدان میں رہ کر لڑنے یا میدان سے بھاگ جانے کے سب راستے بند کر دیں اور بس اناؤں ’مجبوریوں ’رسموں’زنجیروں اور ضرورتوں کے تمام ہتھیار پھینک دیں۔ ایک دوسرے کی ذات میں اپنی اپنی ذاتوں کا سرنڈر کر لیں اور ‘میثاقِ محبت’ کے نام سے کسی اساطیری داستان میں قسمت کے اس لکھے کو درج کروا کر ایک دوسرے کی ذات میں کچھ کہے سنے بغیر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پناہ گزین ہو جائیں۔ اور آنے والی نسلیں اس محبت کو حیرت سے پڑھیں گی جس میں اس کی موت ہو گئی تھی مگر اس کی حرمت کو بچا لیا گیا تھا۔

آؤ بغیر دستخط کے عمر بھر کا صلح نامہ کر لیں۔۔۔۔اور خاموشی اوڑھ کر اس شور میں دفن ہو جائیں جو ہم نے ایک دوسرے سے بچھڑ کر اپنے گرد اگا رکھا ہے۔’
اگر ہم مرد عورت کےرشتے کا نفسیاتی تجزیہ کرنا چاہیں تو ہمیں یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ ہم محبت کی کیا تعریف کرتے ہیں اور اسے کسی رشتے میں کیسے پہچانتے ہیں؟ امریکی ماہرِ نفسیات ہیری سٹاک سالیوان کا موقف ہے کہ کسی رشتے میں محبت اسی وقت موجود ہوتی ہے جب ایک انسان کے لیے دوسرے انسان کا دکھ اور سکھ ’خوشی اور غمی اپنے دکھ سکھ’ خوشی غمی کے برابر عزیز اور اہم ہو جائے۔ ایسے رشتے میں دوستی بھی ہوتی ہے احترام بھی۔ ایسے انسان اپنی عزت کا ہی نہیں دوسرے کی عزتِ نفس کا بھی خیال رکھتے ہیں اور اس کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔
وہ محبت جس میں ایک دوسرے کی عزت نہ ہو’ رائے کا احترام نہ ہو زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی اور اگر قائم رہتی بھی ہے تو آقا اور کنیز کے رشتے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایسے رشتے میں محبت کی عزت نہیں توہین ہوتی ہے۔تعلق قائم رہتا ہے محبت مر جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اکیسویں صدی کے مرد اور عورت نے ایک دوسرے سے دوستی کرنا ۔۔۔ایک دوسرے کی عزت کرنا۔۔۔ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا ۔۔۔ایک دوسرے سے سچی محبت کرنا سیکھا ہے؟
یہ سوال ہم سب کے لیے ایک لمحہِ فکریہ ہے۔
روبینہ فیصل کے افسانے یہی سوال ہم سب سے پوچھتے ہیں۔

مغرب کی عورت اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ایک مرد کے ساتھ ساری عمر گزارنا اور اپنی ذات اور انا اور خود دادری کی قربانی دے کر اس رشتے کو نبھانا کوئی دانشمندی نہیں۔
اس کا مشورہ ہے کہ عورتوں کی خوشحالی کے لیے اس کی self respect بہت ضروری ہے۔اسے اپنا خیال رکھنا سیکھنا ہے اور ان مردوں اور عورتوں سے دوستی کرنی ہے جو اس کا احترام کریں۔ انہیں ان پیشوں اور مشغلوں’ ان آدرشوں اور خوابوں کو تلاش کرنا ہے جو ان کی شخصیت کی تکمیل کریں۔

روبینہ فیصل کے افسانوں پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ میں اس مضمون میں اپنی بات سمیٹتے ہوئے یہ کہوں گا کہ روبینہ فیصل کے افسانے ہمیں ہمارے عہد کی مشرقی‘ مغربی اور مہاجر عورتوں کے مسائل اور ان کے مردوں سے رشتوں کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

میں نے روبینہ فیصل کی افسانہ نگاری کو ایک ننھے منے پودے سے ایک گھنا درخت بنتے دیکھا ہے جو اب میٹھے میٹھے پھل بھی دے رہا ہے۔
میں روبینہ فیصل کو برسوں کی محنت ’ افسانہ نگاری کے فن پر مہارت اور فکر انگیز افسانے تخلیق کرنے کی ریاضت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔مجھے امید ہے کہ وہ اپنا تخلیقی سفر جاری رکھیں گی کیونکہ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں ادب کا خوب سے خوب تر کا سفر’ محبت کے سفر کی طرح ایک میراتھون ریس marathon raceہے سو میٹر کی سپرنٹ100 meter sprint نہیں ہے۔

روبینہ فیصل کی کتاب” گمشدہ سائے” کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے