اور شیر آ گیا

اور شیر آ گیا
سب سے پہلے تو نون لیگی بھائیوں سے بڑی معذرت کہ یہ ان کے والے شیر کے آنے کی ہرگز بات نہیں ہو رہی۔اور نہ ہی ویسے موجودہ حالات میں اب ایسی کوئی امید ہے۔بات ہو رہی ہے اس شیر کی جو ایک جھوٹے کی زبان سے روز روز آ جاتا تھا اور لوگ یقین بھی کر لیتے تھے اور پھر آخر کار شیر آ ہی گیا لیکن اس وقت تک اس کی آمد کا یقین کرنے والا اور اس جھوٹے پر اعتبار کرنے والا کوئی نہ رہاتھا۔
ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔کورونا کا اتنا شور مچایا گیا اور اسے بھٹو مرحوم کی طرح زندہ ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور لوگ ڈر گئے،خوف ذدہ ہو گئے،کاروبار زندگی معطل ہو گئے،لیکن وہ کہیں نظر نہ آیا اور پھر لوگوں نے اسے جھوٹ سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔اور اب یہ حال ہے کہ اس کی موجودگی کے ناقابل تلافی نقصانات ظاہر ہو رہے ہیں لیکن لوگوں کو یقین نہیں آ رہا۔ حکومت لاک ڈاؤن کریں یا نہ کریں اس فیصلے کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔لاک ڈاؤن کرتے ہیں تو غریب آدمی بے روزگار ہوتا ہے۔،نہیں کرتے تو اس وائرس کے تیزی سے پھیلنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔یقینا قوموں کے اوپر مشکل وقت آتا ہے اور مشکل وقت میں مشکل فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔اس وقت کورونا کو روکنے کے ساتھ ساتھ سب سے اہم کام ان افواہوں کو روکنا ہے جو ڈنکے کی چوٹ پر سرعام مارکیٹ میں گردش کرتی پھرتی ہیں اور انھیں کوئی روکنے والا نہیں۔کبھی کورونا کی علامات سے متعلق،کبھی اس کے علاج کے بارے میں،کبھی اس کے مریضوں کی تعداد سے متعلق،کبھی مرنے والے کے کوروناکامشتبہ مریض ہونے کے بارے میں اور کبھی مستقبل کی دل دہلا دینے والی پشین گوئیوں کے متعلق روز نئی سے نئی خبر سننے کو ملتی ہے۔
لوگ مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں اورذہنی اذیت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ایک انجانا سا ان دیکھا خوف دلوں میں بیٹھ رہا ہے۔مسلمان موت سے نہیں ڈرتا لیکن پر اسرار موت سے ضرور تشویش ہوتی ہے۔اب گذشتہ کئی دنوں سے مرغی کے گوشت میں ایک خطرناک وائرس کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی ہیں اور اس خبر کی بابت متعدد اخبارات کے تراشے بھی دیکھنے کو ملے اب واللہ عالم کہ وہ تراشے بھی حقیقی ہیں یا کسی نے جعلی طور پر ایڈٹ کر کے بنائے ہیں،(اب ہر بندہ ہر وقت ہر چیز کی تحقیق بھی نہیں کر سکتا)۔خیر آہستہ آہستہ یہ افواہ بھی زبان زد و عام ہے۔پھر مرغی کے گوشت پر پابندی اور فوری طور پر اسے بند کرنے سے متعلق حکومت پنجاب کے نام سے باقاعدہ طور پر ایک جعلی نوٹیفیکیشن بھی سوشل میڈیا پر پھیلا دیا گیا۔خیر اگلے روز اس نوٹیفیکیشن کی تردید بھی آ گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ جب مرغی کے گوشت میں ایسا کوئی وائرس نہیں ہے توجب سے یہ افواہیں چل رہی ہیں فوری طور پر پہلے ہی اس بارے میں عوام کو آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔اور اگر ایسا کچھ ہے تو بھی حکومت کو فوری طور پر اس بارے میں ایکشن لینا چاہیے۔جعلی نوٹیفیکیشن کی تردید کے ساتھ ساتھ ان افواہوں کی بھی فی الفور تردید کی جانی چاہیے۔عوام کو بھی تو بتایا جائے کہ کس بات پر یقین کریں اور کس بات پر نہ کریں۔ایسی صورت حال میں ایک طرف حکومت کی ایک پوری ٹیم کوہر وقت میڈیا اور سوشل میڈیاپر حاضر رکھنی چاہیے جو بے بنیاد باتوں کی فوری تردید کرے تو دوسری طرف ایسے عناصر کو پکڑ کر ان کے خلاف قانونی کاروائی کرنی چاہیے جو اس ساری آزمایش کو مذاق سمجھتے ہیں اور ہر وقت بے پر کی اڑاتے رہتے ہیں۔ لوگوں کو بھی چاہیے کہ عقل کریں اور سنی سنائی باتوں سے نہ خود پریشان ہوں اور نہ ہی دسروں کو پریشان کریں۔
معذرت کے ساتھ عام تاثرتو یہ ہے کہ خواتین باتیں آگے پھیلانے میں ماہر ہیں لیکن یہاں تو مرد بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ مرد و زن دونوں اس کام میں برابر کے حصہ دار بنے ہوئے ہیں۔ایک بندہ گھر سے باہر نکلتا ہے اور ایسے ساری اطلاعات دے رہا ہوتا ہے کہ جیسے یہ ہی بی بی سی کا پورے پاکستان میں واحد نمائندہ ہے اور لوگ بھی اتنی توجہ سے ہمہ تن گوش ہو کر اس کی ساری گفتگو سماعت کر رہے ہوتے ہیں کہ اتنے انہماک سے نہ شاگرد اپنے استاد کو سنتے ہیں اور نہ ہی بچے اپنے والد کو۔اور یقین بھی ایسے کرتے ہیں جیسے یہ ساری باتیں ان کے پیر و مرشد کے ملفوظات ہیں۔جگہ جگہ،گلی گلی یہی عالم ہے۔اس رویے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے بل کہ ایسے افراد کی اخلاقی طور پر مرمت بھی کرنی چاہیے۔اسلام کا صریح حکم ہے کہ ہم بغیر تصدیق کے کوئی بات آگے نہ پھیلائیں،نجانے بحیثیت قوم ہم کب سدھریں گے؟کب ہم ایک ذمہ دار قوم بنیں گے؟مومن کی تعریف میں موجود تین خصوصیات میں سے ایک خواص یہ ہے کہ مومن کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔ہم ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر تو دیکھیں روزانہ کس کس نوعیت کے کیسے کیسے جھوٹ بولتے ہیں،ہمارے ایک جھوٹ بولنے سے نجانے کسی کو کتنی اذیت ہوتی ہے،ہمیں اس بات کلا احساس تک نہیں ہوتا۔زبان کے چند لمحوں کے چسکے نے ہمیں کتنا خود سر اور غیر ذمہ دار بنا دیا ہے۔ہمیں سوچنا ہو گا۔ورنہ خدانخواستہ سچ میں جب شیر آ گیا تو پھر یقین کوئی نہیں کرے گا۔
اویس خالد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے