اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے

وَلَـنَبۡلُوَنَّكُمۡ بِشَىۡءٍ مِّنَ الۡخَـوۡفِ وَالۡجُـوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيۡنَۙ ۞
ترجمہ:
اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بشارت دیجیے ان صبر کرنے والوں کو. (البقرۃ:155)
اللہ تعالیٰ تاکید کے ساتھ فرما رہا ہے کہ ہم تمہیں ضرور بالضرور آزمائیں گے. کس سے ؟ یقیناً کسی چیز کا خوف دلا کر ، مفلسی سے ، مال کےذریعے سے ، نفس(جان) کے ذریعے اور پھلوں کے ذریعے..
آج کل دیکھا جائے تو ہر ایک کسی نہ کسی طرح آزمایا جارہا ہے کوئی مفلسی میں مبتلا ہے ، تو کوئی مال کی کمی کی وجہ سے رو رہا ہے .جیسے :چوری ڈاکہ وغیرہ تو کوئی اپنی کھیتی تباہ ہونے سے پرہشان ہے .یہ سب نہ سہی آج اس وقت پوری دنیا خوف میں مبتلا ہے کہ ہمارا کیا ہوگا؟ کیا ہم اس آفت سے بچ پائیں گے؟ ضرور بچ سکتے ہیں. مسلمان ہونے کے ناتے اللہ ہم سب کو خوشخبری بھی تو دے رہا ہے گر گئے ہیں کوئی بات نہیں …سنبھل جائیے…منالیجیے اپنے رب کو.. صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں .کیونکہ خوشخبری بھی تو صبر کرنے والوں کے لیے ہے نا… صبر کریں اللہ جلد اس آزمائش کو بھی ٹال دے گا. لیکن ہمیں اس پر یقین کرکے اس سے ہی مدد مانگنی ہے .آگے دیکھیے اللہ کیا فرما رہا ہے.
الَّذِيۡنَ اِذَآ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۙ قَالُوۡٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَؕ ۞
ترجمہ:
وہ لوگ کہ جن کو جب بھی کوئی مصیبت آئے تو وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ جانا ہے۔
دیکھیے ایسے ہوتے ہیں اللہ کےبندے ، ہر مشکل اور پریشانی میں صرف اسی کی طرف رجوع کرنے والے ،اسی کے سامنے آہ و زاری کرنے والے، اسی سے مدد طلب کرنے والے، کیونکہ ہمیں جانا بھی تو اسی کے پاس ہے نا ..
اللہ پاک ہمیں ہر مشکل، ہر پریشانی اور وبائی آفتوں سے نجات عطا کرے اور اپنے لیے خالص عبادت کرنے والا بنائے ہمارا شمار اپنے پسندیدہ بندوں میں کرلے .آمین
جزاک اللہ خیراً کثیرا
از قلم سیدہ حفظہ احمد
2 اپریل ،2020

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے