عطار کے مسکن میں یہ کیسی اداسی ہے

عطار کے مسکن میں یہ کیسی اداسی ہے
سونے کی مقابل میں ہر سمت ہی مٹی ہے
تو صاحب قدرت ہے تو اپنا کرم رکھنا
صحرا کی طرف مائل حالات کی کشتی ہے
روشن ہے درخشاں ہے یہ دور بظاہر تو
مزدور کے بس میں تو بس ریڑھ کی ہڈی ہے
لمحوں کی تعاقب میں صدیوں کی دھروہر تھی
افسوس کے دامن میں غربت کی یہ بستی ہے
وہ صاحب مسند ہیں اس سے انہیں کیا مطلب
جذبوں کے دریچوں سے جاری کوئی ندی ہے
ہر خواب شکستہ ہے تعمیر نشیمن کا
ہر صبح کے ماتھے پر بازار کی گرمی ہے
کچھ اور مسائل سے الجھے گا ابھی عالمؔ
ہر صاحب عالم پہ چھائی ابھی مستی ہے
افروز عالم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے