عسکری دائرہ

سارے چارہ گروں سب مسیحاؤں نے
دور بیٹھے ہوئے
کچھ مرے دور اندیش آقاؤں نے
فیصلہ دیدیا
اب ہے لازم یہی میرے چاروں طرف
حبس ٹھہرا رہے
خود مرے سائے کا مجھ پہ پہرا رہے
میرے حسرت زدہ خواب کی حیثیت
مثلِ ناسور ہے
میری آزادیِ فکر کی نوعیت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
صبحِ جمہوریت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سر کشی کے مصائب سے بھر پور ہے
اس سے پہلے کہ میری جنوں خیزیاں
وجہِ آزار ہوں
میری بے چینیاں پیشِ اظہار ہوں
ٹھہرے ٹھہرے قدم تیز رفتار ہوں
مجھ کو زنجیر کا آسرا چاہیے
میرے چاروں طرف
اک گھنا عسکری دائرہ چاہیے
فیصلہ دے دیا
اب مرے دور اندیش آقاؤں نے
فیصلہ دے دیا
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے