اشک اپنی آنکھوں سے خُود بھی ہم چھُپائیں گے

اشک اپنی آنکھوں سے خُود بھی ہم چھُپائیں گے
تیرے چاہنے والے شور کیا مچائیں گے

صُبح کی ہَوا تجھ کو وہ ملے تو کہہ دینا
شام کی منڈیروں پر ہم دیئے جلائیں گے

ہم نے کب ستاروں سے روشنی کی خواہش کی
ہم تمہاری آنکھوں سے شب کو جگمگائیں گے

تُجھ کو کیا خبر جاناں ہم اُداس لوگوں پر
شام کے سبھی منظر اُنگلیاں اٹھائیں گے

ہم تری محبت کے جُگنوؤں کی آمد پر
تِتلیوں کے رنگوں سے راستے سجائیں گے

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے