[اشعار متفرقات]

یہ رحمت ہے کہ بے تابانہ آئیں گے قیامت میں
جو غل پہنچا گرفتارانِ اُمت کے سلاسل کا

ہے جمالِ حق نما بارہ اماموں کا جمال
اس مبارک سال میں ہے ہر مہینہ نور کا

ملک ہفت آسماں کے جبہ سا ہیں
تعالی اللہ یہ رُتبہ آستاں کا
ابھی روشن ہوں میرے دل کی آنکھیں
جو سُرمہ ہو غبارِ آستاں کا
حسنؔ ہم کو نہیں خوفِ معاصی
سہارا ہے شفیعِ عاصیاں کا

خوف محشر سے ہے فارغ دلِ مضطر اپنا
کہ ہے محبوبِ خدا شافعِ محشر اپنا

داغ دل یادِ دہانِ شہ میں مرجھا ئیں گے کیا
جن کو دیں کوثر سے پانی گل وہ کمھلائیں گے کیا
جس قدم کا عرش پامالِ خرامِ ناز ہو
اُس کے نیچے موم یہ پتھر نہ ہو جائیں گے کیا
جن کی پیاری اُنگلیوں سے نور کے چشمے بہے
اُن سے عصیاں کے سیہ نامے نہ دھُل جائیں گے کیا
کوثر و تسنیم کس کے ہیں ہمارے شاہ کے
حشر کے دن پھر ہمیں پیاسے بھی رہ جائیں گے کیا

کیا بیاں ہو عز و شانِ اہلِ بیت
کبریا ہے مدح خوانِ اہلِ بیت

لاش میری ہو پڑی یا رب میانِ کوئے دوست
پڑتی ہو اُڑ اُڑ کے گرد رہروانِ کوئے دوست

مولیٰ دکھا دو جلوۂ دیدار الغیاث
بے چین ہے بہت دلِ بیمار الغیاث

کیا خوف ہو خورشیدِ قیامت کی تپش کا
کافی ہے ہمیں سایۂ دامانِ محمد
ہوتے ہیں فدا مہر و قمر حسنِ بیاں پر
پڑھتا ہوں جو مدحِ رُخِ تابانِ محمد

رنگ چمن آرائی اُڑانے کی ہوا میں
چلتی ہے صبا دامن مولیٰ سے لپٹ کر

رو رہا ہوں یادِ دندانِ شہِ تسنیم میں
عین دریا میں ہے مجھ کو آبِ گوہر کی تلاش
سایۂ نخل مدینہ ہو زمین طیبہ ہو
تخت زرّیں کی مجھے خواہش نہ اَفسر کی تلاش
چھوڑ کر خاکِ قدم اکسیر کی خواہش کرے
خاک میں مل جائے یا رب کیمیا گر کی تلاش
ان لبوں کی یاد میں دل کو فدا کیجے حسنؔ
لعل پتھر ہیں کریں ہم خاک پتھر کی تلاش

ہے شادیِ تجلّیِ جاناں مآلِ عشق
کیوں کر نہ ہو خوشی سے گوارا ملالِ عشق
لا پھول ساقیا کہ گل داغ کھل گئے
آئی ہے جوبنوں پہ بہارِ جمالِ عشق
جس کو یہ سرفراز کرے دار ہو نصیب
کیا کیا بیان کیجیے اَوج و کمالِ عشق
مدہوشیوں کے لطف اُٹھاؤں میں اے حسنؔ
دل پر مرے گرے کہیں برقِ جمالِ عشق

شمس العظما امام اعظم
بدر الفقہا امام اعظم
مقبولِ جنابِ مُصطفائی
محبوبِ خدا امام اعظم
چالیس برس نہ سوئے شب بھر
تاج العرفا امام اعظم
گمراہ ہوں کس طرح مقلد
ہیں راہ نما امام اعظم

کیا کہوں کیا ہیں مرے پیارے نبی کی آنکھیں
دیکھیں اُن آنکھوں نے نورِ اَزلی کی آنکھیں
نیم وا غنچۂ اَسرارِ الٰہی کہیے
یا یہ ہیں نرگس باغِ اَزلی کی آنکھیں
دھُل گئی ظلمتِ اعمال پڑی جس پہ نظر
عین رحمت ہیں شہِ مطلبی کی آنکھیں
چشم بد دُور عجب آنکھ ہے ماشاء اللہ
ہم نے دیکھیں نہ سنیں ایسی کسی کی آنکھیں

کس کا جلوہ نظر آیا مجھ کو
آپ میں دل نے نہ پایا مجھ کو
لب و حسنِ نمکیں کے آگے
نمک و قند نہ بھایا مجھ کو
اے مرے ابرِ کرم ایک نظر
آتش غم نے جلایا مجھ کو
جب اُٹھا پردۂ غفلت دل سے
ہر جگہ تو نظر آیا مجھ کو
پردہ کھل جائے گا محشر میں مرا
گر نہ دامن میں چھپایا مجھ کو
کیوں کھلی رہتی ہے چشمِ مشتاق
کون ایسا نظر آیا مجھ کو
کیا کہوں کیسی وہ صورت تھی حسنؔ
جس نے دیوانہ بنایا مجھ کو

گلو! دیکھو ہمارے گل کی نکہت ہو اور ایسی ہو
قمر میری نظر سے دیکھ طلعت ہو اور ایسی ہو
شہا نامِ خدا تیرا تو کیا کہنا کہ خالق کو
ترے پیرو بھی پیارے ہیں محبت ہو اور ایسی ہو

یا رب وہ دل دے جس میں کسی کی وِلا نہ ہو
غیر خدا نہ ہو ، کوئی جز مصطفیٰ نہ ہو
صورت بنائی حق نے تری اپنے ہاتھ سے
پیارے ترا نظیر نہ پیدا ہوا نہ ہو
اے بوالہوس نصیب تجھے کیمیا کہاں
جب تک تو خاک پاے حبیبِ خدا نہ ہو
یا ربّ وہ نخل سبز رہے جس کی شاخ میں
جز داغِ عشق اور کوئی گل کھلا نہ ہو

معاذ اللہ اُس دل کو عذابِ حشر کا غم ہو
کہ جس کا حامی و یاور جنابِ غوث اعظم ہو
لبِ جاں بخش نے دی جانِ تازہ دین و ایماں کو
محی الدیں نہ کیوں کر پھر تمہارا اسم اعظم ہو
جِلا دیتے ہو مردوں کو دلِ مردہ جلا دیجے
تم اِس اُمت میں شاہا یادگارِ ابنِ مریم ہو

اصحابِ پاک میں ہے شمارِ معاویہ
کیوں کر بیاں ہو عز و وقارِ معاویہ

آپ ہیں ختم رُسل ختم رسالت مہر ہے
آپ آئینہ ہیں وہ تصویرِ پشت آئینہ
گر رسالت کی گواہی چاہتے ختم رسل
بول اُٹھتا طوطیِ تصویر پشت آئینہ

غبار بے کساں کو کوئی پہنچا دے مدینہ تک
لپٹتا ہے ہر اک دامن سے سب کے پاؤں پڑتا ہے

فانی فانی ہستی فانی
باقی باقی باقی فانی
ہستی کی پھر ہستی کیا ہو
ٹھہری جب یہ فنا بھی فانی
نفسِ کافر ناز ہے کس پر
ہے سب رام کہانی فانی
میرا تیرا کب تک پیارے
میں بھی فانی تو بھی فانی
طعمۂ خاک ہیں شاہ و گدا سب
تخت و تاج و گدائی فانی
نیست ہیں یہ سب مجنوں عاقل
صحرا فانی بستی فانی
دیکھ لے حالِ حباب و شرر کو
دم میں ہو گئی ہستی فانی
ایک بقا ہے ذاتِ خدا کو
باقی ساری خدائی فانی
قولِ حسنؔ سن قولِ حسن ہے
باقی باقی فانی فانی

حسن رضا بریلوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے