اشعار کی صحت کے متعلق تیسرا کالم

اشعار کی صحت کے متعلق تیسرا کالم
کسی بھی اخبار کا ادارتی صفحہ ہی میری پہلی ترجیح ہوتا ہے۔ادارتی صفحے پر بھی فوقیت ایسے کالموں کو دیتا ہوں جنھیں اشعار کے حُسن وجمال سے آراستہ کیا گیا ہو، اس لیے کہ اشعار، کالم کو چار چاند لگا دیتے ہیں لیکن غلط شعر لکھنے سے بہتر ہے کہ شعر نہ ہی لکھا جائے۔ہمارے کالم نگاروں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جو شعر اُنھیں جس طرح یاد ہوتا ہے اسے بِنا کسی تحقیق کے ویسے ہی اپنے کالموں میں لکھ مارتے ہیں جس سے غلط اشعار قارئین کے ذہن میں محفوظ ہوتے چلے جاتے ہیں۔لہذااشعار کی صحت کی صحت کے متعلق خاص دھیان دینے کی ضرورت ہے۔شعر میں اگر تصرّف مقصود ہو تو شاعر سے معذرت کے ساتھ واوین میں کیا جاتا ہے اور شعر کا وزن بھی قائم رکھا جاتا ہے۔25 جون کے” سرراہے“ میں ایک شعر یوں لکھا گیا ہے۔
بھری بزم میں راز کی بات کہ دی
بڑا ناسمجھ ہوں سزا چاہتا ہوں
یہ شعر حضرت علامہ محمد اقبال کا ہے مگر انُھوں نے شعر میں”ناسمجھ“ بالکل نہیں لکھا بلکہ” بے ادب“ تحریر کیا ہے۔دوسرا مصرع یوں ہے۔
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
26 جون کے اسی کالم میں بقول شاعر کہ کر ایک شعر یوں تحریر کیا گیا ہے۔
طرز کہن پہ اڑنا، آئین نو سے ڈرنا
رستہ یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
مذکورہ بالا شعر بھی حضرت علامہ محمد اقبال ہی کا ہے مگر دونوں مصرعوں کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے۔جب قومی سطح کے اخبار ہی اپنے قومی شاعر کے ساتھ اتنی بدسلوکی کریں گے تو چھوٹے موٹے اخبارات سے کیسا شکوہ؟ بانگِ درا کی نظم” بزم انجم“ میں یہ شعر اس طرح موجود ہے۔
آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کُہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
20 جون کے ایک اور روزنامے میں علی حسن کے نام سے ایک کالم شائع ہوا ہے۔سب سے پہلے تو آپ وہ شعر پڑھ لیجیے جو کالم میں لکھا گیا ہے۔
کیا حسن اتفاق ہے ان کی گلی میں ہم
اک کام سے گئے تھے، ہر کام سے گئے
پہلا ستم تو یہ کیا گیا ہے کہ دونوں مصرعے ہی غلط تحریر کیے گئے ہیں۔دوسرا ظلم یہ کہ اس شعر کو جون ایلیا کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔اگر کسی شاعر کا بہت ہی عمدہ اور ضرب المثل بن جانے والا شعر کسی اور شاعر سے منسوب کر دیا جائے تو اُس کے دل پر کیا بیتے گی؟ اس کا احساس کسی شاعر ہی کو ہو سکتا ہے۔سب سے پہلے تو آپ درست شعر پڑھ لیجیے۔
کیا حُسنِ اتفاق تھا اُس کی گلی میں ہم
اک کام سے گئے تھے کہ پھر کام سے گئے
علی حسن سے گزارش ہے کہ یہ شعر جون ایلیا کا نہیں بلکہ اٹک سے تعلق رکھنے والے شاعر زبیر قیصر کا ہے۔
اس سے بھی بڑا ”کمال “ 20 جون کو رانا سعید ساجد نے کیا ہے۔انھوں نے ابنِ انشا کی معروف اور زبان زدِ عام غزل کے مطلعے کا پہلا اور مقطعے کا بھی پہلا مصرع لے کر ایسا” شاہ کار“ تخلیق کر ڈالا ہے کہ ابنِ انشا اگر آج زندہ ہوتا تو ضرور موصوف کی”کَنڈ تَھپ “ دیتا۔ملاحظہ کیجیے رانا سعید ساجد کا” کارنامہ“۔
انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
جس شہر کے لوگ ہی نہ رستہ دیں پھر اس شہر کی طرف جانا کیا
اس عجیب وغریب ” تخلیق“ کا دوسرا مصرع جو درحقیقت مقطعے کا پہلا مصرع ہے بحر سے خارج بھی کر دیا گیا ہے۔اب مطلع اور مقطع دونوں ملاحظہ کیجیے۔
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں کیوں بَن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا
سعداللہ جان برق اگر اپنے کالموں میں لکھے جانے والے اشعار کی صحت کی طرف دھیان دیں تو اُن کے کالموں میں مزید نکھار آ سکتا ہے۔16 جون کے کالم میں یہ شعر لکھا گیا ہے۔
تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانا کر لے
ہم تو کل ملک عدم میں شب ہجراں ہوں گے
دیوانِ مومن 1945 شانتی پریس الہ آباد، مرتّبہ ضیاء الدّین لیکچرار مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں” ملکِ عدم“ کی جگہ” خوابِ عدم“ تحریر ہے۔
سعداللہ جان برق نے ہی 26 جون کے اپنے کالم میں یہ شعر لکھا ہے۔
جو تری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں تھی
جب کہ صحیح شعر اس طرح ہے۔
تمھاری زلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامہ ء سیاہ میں تھی
سعداللہ جان برق کے 27 جون کے کالم میں لکھے گئے غلط اشعار ملاحظہ کیجیے۔
قاطع اعمار ہیں سارے نجوم
وہ بلائے آسمانی اور ہے
غالب کے اس شعر کے پہلے مصرعے میں لفظ” سارے “کی جگہ” اکثر“ ہے.
ہر منزل غربت پہ گماں ہوتا ہے گھر کا
بہلایا ہے ہرگام ہمیں در بدری نے
فیض احمد فیض کے اس شعر کے دوسرے مصرعے میں” ہمیں“ کی بجائے لفظ” بہت “ہے
اور الطاف حسین حالی کے اس شعر میں تو مصرعو‌ں کو الٹ پلٹ کر کھچڑی سی پکا دی گئی ہے۔
اب دیکھیے ٹھہرتی ہے جا کر نظر کہاں
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
جب کہ الطاف حسین حالی نے یہ شعر اس طرح کہا ہے
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھیرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
سعداللہ جان برق نے 7 جولائی کے کالم میں اس شعر کے دونوں مصرعے ہی غلط لکھ دیے ہیں۔
تاج محل میں ایک کمی تھی
ہم نے تری تصویر لگا دی
کیف بھوپالی کا یہ شعر ان کی کتاب” کوئے بُتاں “ میں اس طرح لکھا ہے۔
ایک کمی تھی تاج محل میں
میں نے تری تصویر لگا دی
مجھے بے حد افسوس اس وقت ہوا جب مرزا غالب کے اس شعر میں ردیف اور قافیے تک کی تحریف کر دی گئی۔
حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا اس کے بعد
بارے آرام سے ہیں اہل قلم اس کے بعد
جب کہ مرزا غالب نے شعر یوں کہا ہے۔
حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
بارے آرام سے ہیں اہل جفا میرے بعد
یکم جولائی کے اپنے کالم” خدا کی بستی“ میں آصف عفان نے ایک شعر یوں لکھا ہے۔
قتل طفلاں کی منادی ہو چکی ہے شہر میں
ماں مجھے بھی مثل موسیٰ تو بہا دے نہر میں
یہ شعر معروف ملّی نغمے” دل دل پاکستان“ کے شاعر نثار ناسک کا ہے، نثار ناسک انتہائی کسمپرسی کی حالت میں 3 جولائی 2019 کو وفات پا چکے ہیں۔آصف بھلی بھی اس شعر کی تصحیح کر چکے ہیں۔اُن کے مطابق درست شعر اس طرح ہے۔
ماں! مجھے بھی صورتِ موسیٰ بہا دے نہر میں
قتلِ طفلاں کی منادی ہو چکی ہے شہر میں
یکم جولائی کو علی احمد ڈھلوں نے اپنے کالم” تلخیاں“ میں منیر نیازی کے شعر کے دونوں مصرعے ہی غلط لکھ دیے ہیں۔
اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
منیر نیازی نے یہ شعر اس طرح ہرگز نہیں کہا، درست شعر یوں ہے۔
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
9 جولائی کو جناب ہارون الرّشید نے اپنے کالم” ناتمام“ میں مرزا غالب کے ایک شعر کا مصرع یوں لکھا ہے۔
جس دل پہ مجھ کو ناز تھا وہ دل نہیں رہا
جب کہ غالب نے یہ مصرع ہر گز اس طرح نہیں کہا۔ درست مصرع مکمل شعر کے ساتھ یوں ہے۔
عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
حیات عبداللہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے